30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور پانچوں نمازی نیك سنی صحیح العقیدہ ہیں،ہفدہم ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ کو میرے سامنےاس مضمون کی شہادت ادا کی،اور ان میں بعض نے کہا ہمارے سامنے توتے کو شکارکر لے گیا،بعض نے کہا کھونٹی پر شکرہ بندھا تھا شکرہ کو مار لے گیا،حالانکہ شکرہ اتنا بڑا اور قوی اور خود شکاری جانور ہے،اور الو کی منقار بہت چھوٹی ہوتی ہے کہ چونچ سے اس کاقابو میں آنا معقول نہیں،نہ کہ ایسا زور کہ بندش توڑ کر زندہ لے جائے،لاجرم پنجہ سے شکار کیا،اور یہ امر اس جانور کی قوت سے کچھ عجب نہیں کہ وہ شکرہ سے بھاری جانور کو شکار کرلیتا ہے،علامہ زکریا بن محمد بن محمود انصاری قزوینی کتاب عجائب المخلوقات وغرائب الموجودات میں اس کا حال لکھتے ہیں:
|
تصطاد السنانیر الضعاف وتعادی الغراب وھو ذلیل بالنھار اما باللیل فلا یقدر علیہ شیئ من الطیور[1]۔ |
الو کمزور بلیوں کو شکار کرلیتا ہے،کوے سے اس کو دشمنی ہے،دن کو ذلیل ہوتا ہے مگر رات میں کوئی پرند اس پر قدرت نہیں رکھتا۔ |
مرآت الاصطلاحات عنبر شاہی میں ہے:
|
چنگ بالفتح بروزن سنگ قلاب آہنی وپنجہ آدمی وحیوان درندہ، شکاری چوں باز وشاہین وشیر وپلنگ وامثال آں[2]،واز شعر طوطی ہند امیر خسرو دہلوی جنگ بوم واقع شدہ،وبوم ہرچند جانور شکاری نیست،بدیں معنی کہ مردم بداں شکارنمی کنند، لیکن فی الحقیقۃ ذومخلب ست کہ صیدمے نماید،چنانچہ دیدہ شد، وشعر مذکور این ست ؎ بوم کہ باشد کہ بچنگ دراز طعمہ برد از دہن جرہ باز |
چنگ بروزن سنگ ہے،لوہے کے شکنجے اور آدمی کے پنجے، شکاری اوردرندے حیوان جیسے باز،شاہین،شیر،چیتا،اور ان کی ہم مثل کو چنگ کہتے ہیں،طوطی ہند امیر خسرودہلوی کے شعر میں چنگ الو کے لیے استعمال ہوا ہے اگرچہ مشہور شکار کاپرندہ اس معنی میں نہیں کہ آدمی اس کاشکار نہیں کرتا لیکن حقیقتًاوہ اپنے پنجے سے شکار کرتا ہے جیسا کہ مشاہدہ میں آیا ہے وہ شعر یہ ہے: الوجس کاپنجہ دراز ہے منہ سے کھاتا ہے باز والی جرات (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع