30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یتولد من لحمہا شیئ من طباعہا فیحرم اکراما لبنی آدم کما انہ یحل ما احل اکرامالہ [1]۔ |
ان کا گوشت کھانے سے کچھ خصلت ان کی سی آدمی میں پیدا ہوجائے،لہذا انسان کی عزت کے لئے ان کا کھانا حرام ہوا،جیسے کہ اس کی عزت ہی کے لئے حلال جانور حلال کے گئے، |
میزان امام شعرانی میں ہے:
|
من ذٰلك اتفاق الائمۃ الثلثۃ علی تحریم کل ذی ناب من السباع ومخلب من الطیر یعدوبہ علی غیرہ (الی ان قال)لانہ فیہ قسوۃ من حیث انہ یقسر غیرہ و یقہرہ من غیر رحمۃ بذٰلك الحیوان المقسور فیسری نظیر تلك القسوۃ فی قلب الاٰکل لہ۔واذاقسی قلب العبد صار لا یحن قلبہ الی موعظۃ وصار کالحمار [2]۔ |
یعنی انھیں مسائل سے ہے امام ابوحنیفہ وامام شافعی وامام احمدر ضی الله تعالٰی عنہم کا اتفاق کہ ہر کیلے والا درندہ اور ہر پنچہ والا پرندہ جو دوسرے پر اس کیلے یا پنجے سے حملہ کرتاہے حرام ہے،اس لئے کہ اس میں سنگدلی ہے کہ وہ بیدردی سے مجبور ومغلوب کرتاہے،تو ایسی ہی سنگدلی اس کے کھانیوالے میں سرایت کرے گی،اور جب آدمی کا دل سخت ہوجاتاہے تو کسی نصیحت کی طرف میل نہیں کرتا اور آدمی سے گدھا ہوکر رہ جاتاہے۔ |
میں
کہتاہوں یوں ہی کتب طیبہ سے ثابت کہ الو کھانے والا آدمی سے الو ہوکر رہ جاتاہے
والعیاذ بالله رب العلمین۔
غرض یہ قاعدہ کلیہ شرعیہ ہے جس پر ائمہ حنفیہ کا اجماع ہے،اور اس سے ہر گز کوئی
پنچہ والا پرندہ کہ سباع طیر سے ہو مستثنٰی نہیں اور شك نہیں کہ الو پنچہ والا
پرندہ ہے۔بلکہ اس کے پنجے بہت شکاری پرندوں سے زیادہ قوی اور تیز ہیں،اور شك نہیں
کہ گوشت اس کی خوراك ہے،ا ور شك نہیں کہ وہ اپنے سے کم طاقت پرندوں پر حملہ
کرتاہے،یہ سب باتیں یقینا معلوم ہیں،اور فقیر کے سامنے بہت شکار پیشہ مسلمانوں نے
بیان کیا کہ یہ پرندہ شکاری ہے،پانچ عــــــہ سکان بریلی نے کہ ان میں چار صاحب قوم کے قراول،
عــــــہ:نیاز محمدخاں ابن رحم خاں ونذیر خان ابن وزیر خاں وعنایت الله خاں ابن کرم علی خاں وغلامی خان ابن حسن خاں قراول ساکناں بہاریپور محلہ قراؤلان ومحمد خاں ابن گل خان افغان ساکن شہر کنہ ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع