30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلاف پر ہیں،اور حیاۃ الحیوان کا حوالہ تو سرے سے غلط ہے اس میں کہیں نہیں لکھا کہ حنفیہ حلال جانتے ہیں اس میں صرف شافعیہ کے دو قول لکھے ہیں،عبارت اس کی یہ ہے:
|
الحکم یحرم اکل جمیع انواعہا،قال الرافعی ذکر ابوعاصم العبادی ان البوم کالرخم،وکذٰلك الضوع،ومن شافعی رحمہ اﷲ قول انہ حلال [1]۔ |
حکم یہ ہے کہ تمام اقسام حرام ہیں،رافعی نے کہا ابوعاصم العبادی نے ذکر کیا ہے کہ رخم کی طرح بوم حرام ہے،اور اسی طرح ضوع بھی حرام ہے،اور امام شافعی حرام ہے اور امام شافعی کا ایك قول ہے کہ یہ حلال ہے۔(ت) |
خیرا ن سب سے قطع نظر کرکے اس مسئلہ کی طرف چلئے،یہی عالمگیری وطحطاوی وشافعی ومیزان،جن سے امداد المسلمین میں یہ عبارتیں نقل کیں،ان میں اوروںج کے سوا ہماری تمام کتب مذہب اور صحاح احادیث سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہم اجمعین میں صاف صریح حکم قطعی کل بلااستثناء وتخصیص موجود ہے کہ ہر پرنداپنے پنجہ سے شکار کرنے والے حرام ہے،جیسے ہر درندہ دانتوں سے شکار کرنے والے،عالمگیری میں بدائع سے ہے:
|
لایکل کل ذی مخلب من الطیر [2]۔ |
یعنی حرام ہے ہر پنچہ والا پرند۔ |
طحطاوی میں ہے:
|
لایل سباع الوحوش والطیر [3]اھ ملخصا۔ |
درندے وحشی وپرند سب حرام ہیں اھ ملخصا۔ |
حموی پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے:
|
الدلیل علیہ انہ صل اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہی عن اکل کل ذی ناب من السباع وکل ذی مخلب من الطیر، رواہ مسلم وابوداؤد وجماعۃ،و السرفیہ ان طبیعۃ ھذہ الاشیاء مذمومۃ شرعا فیخشی ان |
یعنی دلیل اس پر یہ ہے کہ حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ہر درندے کیلے والے اور ہر پرندے پنچہ والے کے کھانے سے منع فرمایا،مسلم وابوداؤد وغیرہما ایك جماعت محدثین نے یہ حدیث روایت کی،اور اس میں راز یہ ہے کہ ان چیزوں کی خصلت شرعا بدہے تو اندیشہ ہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع