30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فان الکافرلایقبل قولہ فی الدیانات [1]۔ |
دین کے امور میں کافر کی بات قابل قبول نہیں۔(ت) |
ہاں اگر اس کو اجیر کیا ہو تو جواز رہے گا،
|
لان الکافر یقبل قولہ فی المعاملات وان تضمنت شیئا من الدیانات،وکم من شیئ یثبت ضمنا لایثبت قصدا[2]۔وتبیینہ فی التبیین وغیرہ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ کافر کی بات معاملات میں اگر چہ وہ دیانات کو متضمن ہوں،قابل قبول ہے،جبکہ بہت سے امور ضمنا ثابت ہوتے ہیں اور قصدًا ثابت نہیں ہوتے،اس کی وضاحت تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۵۰: از ملك بنگالہ ضلع نواکھالی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ گھوڑے کا گوشت کھانا ازروئے شرع شریف کے جائز ہے یانہیں؟ اگر جائزہے تو احادیث سے ثابت ہے یا قول فقہاء سے اور فتوٰی قول امام اعظم پر ہے یا صاحبین؟ بینوا توجروا
الجواب:
صاحبین کے نزدیك حلال ہے،اور امام مکروہ فرماتے ہیں،قول امام پر فتوٰی ہوا کہ کراہت تزیہی ہے یا تحریمی،اور اصح وراجح کراہت تحریم ہے۔
|
صححہ الامام قاضی خاں فی فتاواہ،وقد قالوا انہ فقیہ النفس ولا یعدل عن تصحیحہ وقال الشامی ثم نقل ای القہستانی تصحیح کراہۃ التحریم عن الخلاصۃ والہدایۃ والمحیط والمغنی و القاضی خاں و العمادیۃ وغیرھا وعلیہ المتون[3] اھ ومعلوم ان الترجیح للمتون وانہا الموضوعۃ |
امام قاضی خاں نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تصحیح فرمائی ہے جبکہ فقہاء نے فرمایا:قاضی خان فقیہ النفس ہیں،لہذا اس کی تصحیح سے عدول نہ ہوگا،اور علامہ شامی نے فرمایا کہ پھرقہستانی نے خلاصہ،ہدایہ،محیط،مغنی،قاضی خاں اور عمادی وغیرہاسے کراہت تحریمہ کی تصحیح نقل کی ہے،اور کہا کہ اس پر متون وارد ہیں اھ اور واضح بات ہے کہ ترجیح متون کو ہے اور وہ مذہب کو نقل کرنے کے لئے وضع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع