30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرآن شریف ارسال فرمائیں،اور اس مسئلہ کو اخبار ودبدبہ سکندری شائع کرادیں۔
الجواب:
جب وہ جانور مسلمانوں نے الله عزوجل کے لئے تکبیر کہہ کر ذبح کیا تو حلال ہوجانے میں کوئی شبہہ ہی نہ رہا،خاکروب کا گوشت بنانا وہ اگر اس وجہ سے ہے کہ بکرا اسی کی ملك تھا اور اس نے اپنے ظاہر پیروغیرہ کسی معبود باطل کے لئے ذبح کرایا تو اس کا کھانا مسلمانوں کو مکروہ ہے کمانص علیہ فی الہندیۃ (جیسا کہ ہندیہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت) اسی طرح اگر کسی معبود باطل کے لئے ذبح نہ کرایا،بلکہ اس نے ان کی دعوت کی تھی تو اس دعوت کا ہی قبول کرنا نامناسب تھا،اور اگر بکرا مسلمان کی ملك تھا اور اس سے بنوایا،اور وہ اپنا ناپاك پیشہ کرتاہے اور اس کے ہاتھ خوب پاك نہ کرالئے تھے،تو سخت بے احتیاطی کی،اور اگر اس کے ہاتھ پاك کرائے تھے یا وہ قوم کا خاك روب ہے یہ پیشہ نہیں کرتا،تو یہ دیکھا جائے کہ وہاں کے عرف میں خاك روب کی چھوئی ہوئی چیز سے پرہیز کرتے اور اس کے استعمال کو معیوب جانتے ہیں یانہیں،اگر جانتے ہیں،اور ان لوگوں نے بے پروائی کی تو مصلحت دینی کے خلاف کیا اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے،حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: بشروا ولا تنفروا [1] (خوشخبری دو،منافرت پیدا نہ کرو۔ت) دوسری حدیث میں ہے:ایاك ومایسوء الا ذن [2] (کانوں کے لئے تکلیف دہ بات سے بچو۔ت)تیسری حدیث میں ہے:
|
ایاك وما یعتذرمنہ فان الخبر لا معتذرمنہ[3]۔ |
معذرت والی چیز سے بچو،تو بیشك خبر معذرت خواہی والی چیز نہیں ہے۔(ت) |
یہ سب اس صورت میں ہے کہ بکرا وقت ذبح سے مسلمانوں کے ہاتھ میں پہنچنے تك مسلمانوں کی نگاہ سے غائب نہ ہوا،اور اگر ذبح کرکے اسے دے دیا اور کوئی مسلمان دیکھتا نہ رہا،اس نے گوشت بنایا اور مسلمانوں کو دیا تو اب اس کا کھانا سرے سے حلال ہی نہ رہا،
[1] صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ والعلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶
[2] مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادیۃ رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامیہ بیروت ۴/ ۷۶،کشف الخفاء للعجلونی حدیث ۸۶۶ و ۸۶۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۴۷
[3] المستدرك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکر بیروت ۴/ ۳۲۷،کشف الخفاء للعجلونی حدیث ۸۶۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۲۴۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع