30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی حجہ وغنیہ میں ہے:ولو قدموا فاسقایأ ثمون [1] (اگر فاسق کو امام بنایا تو بنانیوالے گنہگار ہوں گے) زیلعی وغیرہ میں ہے:
|
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اہانتہ شرعا [2]۔ |
کیونکہ آگے کرکے امام بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا ان پر اس کی اہانت لازم تھی۔(ت) |
رہا یہ کہ وہ ہند و کی پرستش کا بکرا اس کے یہاں جاکر ذبح کرتاہے،اور اس کے ذبح سے تعظیم الہٰی کی نیت کرتا اور الله عزوجل کا نام لیتاہے،تو جانور حلال ہوجائے گا،مگریہ فعل اس کے لئے مکروہ ہے فی الہندیۃ توکل ویکرہ للمسلم [3](ہندیہ میں اسے حلال اور مسلمانوں کے لئے مکروہ کہا گیاہے۔ت)اور اگر اس کافر ہی کی نیت پر ذبح کرتاہے تو جانور تو مردار ہوا ہی اس ذابح کا ایمان بھی بچنا مشکل ہے۔مگر ظاہر یہ ہے کہ مسلمان پر حتی الامکان بدگمانی کی اجازت بھی نہیں کہ اس کا مقصود فقط اپنے ٹکے سیدھے کرنا ہوگا نہ کہ معبود باطل کی تعظیم کہ مسلمان سے متوقع نہیں،نہ معبود حق کی تعظیم کا خیال آتا ہوگا،تویوں بھی یہ فعل سخت شنیع اور جانور کی جان کی ناحق تضییع ہے،پھر اس کی امامت سے احتراز چاہئے کہ وہی احتیاط جو ہمیں اس پر بدگمانی نہیں کرنے دیتی نماز میں اسے امام نہ بنانے دے گی،
|
فان سوء الظن شیئ،والحزم شیئ اٰخر،وہذا من باب الخروج ومن اتقی الشبہات فقد استبراء لدینہ و عرضہ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بدگمانی علیحدہ چیز ہے،اور احتیاط دوسری چیز ہے،اوریہ علیحدہ رہنا ہے،اور جو شخص شبہات سے بچا تو اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ بنالیا والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۴۹: مرسلہ غلام نبی صاحب ساکن موضع میانہ ٹھٹہ ضلع گوجرانوالا ڈاك خانہ موز اتوار،۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسمی چراغ دین امام مسجد نے ایك بکرا ذبح کیا اور اس کا چمڑا مسمی حاکو قوم خاکروب نے اتارا اور گوشت بنایا،اور گوشت مذکور کو چند مسلمانوں نے مل کر تقسیم کرلیا اور اپنے گھروں میں پکا کر کھایا،کیا وہ گوشت کھانا جائز ہے یانہیں؟ اس بات کا خلاصہ حال مع ثبوت حدیث و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع