30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب الملفوظ
اگر صدقہ واجبہ ہے اور وجوب خاص ذبح کا ہے تو بے ذبح ادانہ ہوگا،مگر اس حالت میں کہ ذبح کے لئے وقت متعین تھا جیسے قربانی کے لئے ذی الحجہ کی دسویں گیارھویں عــــــہ اور وہ وقت نکل گیا تو اب زندہ تصدق کیا جائے گا۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸:مسئولہ شیخ محمد وزیر صاحب پٹیل از قصبہ تحصیل اون ضلع ایوت محال ملك برار ۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا ایك بیٹا بکر چالیس روپیہ کا ملازم سرکار ہے،زید کا آبائی واجدادی پیشہ یہ ہے کہ روزانہ ہربز قصاب کے مکان پر جانا،اور جس قدر بکریاں ذبح کرنے کی ہوں،ان کو ذبح کردینا اور ان کی اجرت میں فی راس ایك آنہ پیسہ یا پاؤ بھر گوشت لینا،چلا آتاہے،اورنیز ہر مواضعات قریب میں جاکے قوم ہندو کے مکان پر جو ان کی پرستش کا بکرا ہوتاہے،اس کو ذبح کردیتاہے،اور اس کی اجرت لیتاہے،یہ پیشہ اس وقت تك جاری ہے،اور سناگیا ہے کہ ذابح البقر وقاطع الشجر ودائم الخمر کی بخشش میں احتمال ہے،اگر اس مسئلہ کی کچھ بنیاد ہے اور یہ سچ ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں؟ براہ کرم بواپسی ڈاك جواب باصواب سے سرفراز فرمائے،
الجواب:
گائے بکری کا ذبح کرنا جائزہے،
|
قال اﷲ تعالٰی " اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوۡا بَقَرَۃً ؕ"[1]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:بیشك الله تعالٰی نے تمھیں حکم دیا ہے کہ گائے کو ذبح کرو۔(ت) |
وہ قول کہ لوگوں میں مشہور ہے محض بے اصل ہے،قطع شجر کی بھی اجازت قرآن عظیم میں موجود ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی " مَا قَطَعْتُمۡ مِّنۡ لِّیۡنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوۡہَا قَآئِمَۃً عَلٰۤی اُصُوۡلِہَا فَبِاِذْن |
الله تعالٰی نے فرمایا:تم نے جو سبز درخت کاٹے یا ان کو تم نے باقی کھڑا رہنے دیا تو یہ الله تعالٰی |
عــــــہ:اصل میں بارھویں نہیں ہے غالبا ناقل کا سہو ہے ۱۲ عبدالمنان الاعظمی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع