30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والذبح ویقدر [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اور اس عمل پر قادرہو،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۴۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤ میش قریب المرگ کو ذبح کیا گیا،اختلاف اس امر میں ہے کہ وہ زندہ تھی کہ مرچکی تھی،ذبح کرنے والا نیز چند اور شخص کہتے ہیں کہ وہ زندہ تھی لیکن دو شخص کی یہ رائے ہے کہ وہ مرچکی تھی،بعد ذبح کے کسی عضو نے جنبش نہ کی،دریافت طلب امریہ ہے کہ ایسی صورت میں اس کا کھانا جائز ہے یانہیں،واقعات یہ ہیں کہ یہ بھینسیں بعد ذبح کرنے کے ایك قصاب کے ہاتھ دس روپیہ میں فروخت کردی تھی وہی دونوں شخص جو کہتے ہیں کہ وہ مرگئی تھی قصاب کو بہکا دیا،قصاب مذکور نے اس کا گوشت دفن کردیا اور کھال لے گیا اور بریلی فروخت کر آیا،گوشت کی قیمت اس کو معاف کردی گئی صرف کھال کی قیمت جو چھ روپے اس کو طے کردی گئی تھی،اور وہ اس نے بریلی میں بہت منافع کے ساتھ فروخت کیا طلب کی جاتی ہے لیکن وہ چھ روپے دینے سے بھی انکار کرتا ہے،اور کہتاہے کہ تم لوگوں نے مردہ جانور کی کھال نکلواکر مجھے ناپاك کردیا،میرے برادری والے مجھے نکال دیں گے،میں قیمت نہیں دوں گا،دریافت طلب یہ بات ہے کہ اس قصاب پر کیا برائی آسکتی ہے،اگر یہ خیال کرلیا جائے کہ وہ مرگئی تھی اور دھوکا میں ایسا کیا گیا۔
الجواب:
ذبح ہوتے وقت بھینس کا زندہ ہونا خوب معلوم تھا،یا ذبح کے بعد وہ تڑپی،یا ایسا خون دیا جیسا زندہ جانور سے نکلتاہے،یا اور کوئی علامت زندہ کی پائی گئی،مثلا منہ یا آنکھ بند کی یا پاؤں سمیٹے یا بدن کے بال کھڑے ہوئے تو وہ حلال ہے اور کھانا جائز،اور قصاب پر دس روپے واجب،اور اگر وقت ذبح اس کا زندہ ہونا تحقیق نہ تھا،نہ بعد ذبح کوئی علامت زندگی کی پائی عــــــہ گئی نہ ایسا خون نکلا،نہ وہ حرکت کی،بلکہ بالکل ساکن رہی،یا منہ یاآنکھ کھل گئی،یا پاؤں پھیل گیا،یا بال بچھ گئے،تو بھینس حرام ہے،اور قصاب پر ایك پیسہ بھی واجب نہیں،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷: مسئولہ احمد حسن بنگالی طالبعلم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
صدقہ کا جانور بلاذبح کئے جانور ہی کسی مصرف صدقہ کو دیا جائے تو جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
عــــــہ:اصل میں تحریر ہے ـ:"ڈالی گئی"۱۲ عبدالمنان الاعظمی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع