30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۴۳: مسئولہ والی علی صاحب کانسٹبل از تھانہ بہیڑی ضلع بریلی ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ کتا کسی جانو رکو پکڑلے،اور اس جانور کے زخم کتے کی پکڑ کا ہوجائے،اور بعد میں جانور ذبح کرلیا جائے تو وہ حلال ہے یاحرام؟
الجواب:
شکاری کتا جبکہ بسم الله کہہ کر چھوڑا گیا اگر جانور اس کے زخم سے مرجائے تو حلال ہے،اور اگر زندہ ملے اور ذبح کرلیا جائے تو حلال ہے، زاس کے زخم سے جانور میں کوئی حرج نہیں آتا،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴ و ۱۴۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) اگرذبیحہ ذبح کیا جائے اور وہ بعد میں ایك دیر کے خون دے،تو کھانا اس کا جائز ہے یانہیں؟
(۲) عورت یا لڑکے کے ذبیحہ کیساہے؟ بینو توجروا
الجواب:
(۱) پہلی صورت میں حلت میں کوئی شبہ نہیں،خروج خون علامت حیات ہے،اور بعد دیر کے نکلنا اس کا غیر مانع،بلکہ اگر خون نہ دے عــــــہ فقط حرکت کرے اور تڑپے تاہم کھانا اس کا جائز ہے کہ شرط حلت حیاۃ عندالذبح ہے نہ کہ خروج دم۔
|
فی تنویر الابصار ذبح شاۃ فتحرکت اوخرج الدم حلت [1]۔ |
تنویر الابصار میں ہے:ذبح کرنے پر بکری نے حرکت کی یا خون نکلا،تو حلال ہوگی،(ت) |
(۲) عورت ولڑکے کا ذبیحہ اگر وہ قواعد وشرائط ذبح سے واقف ہیں اور مطابق شرع ذبح کرسکتے ہیں بلا ریب حلال ہے،
|
فی الدرالمختار وشرط کون الذابح مسلما ولوامرأۃ او صبیا یعقل التسمیۃ |
درمختار میں ہے:مسلمان اگر چہ عورت یا بچہ ہو شرط یہ ہے کہ بسم الله اورذبح کو جانتا ہو، |
|
عــــــہ: لکنہ فیہ اختلاف ذکرہ فی الہدایۃ فی کتاب الصید ۱۲ منہ۔ |
لیکن اس میں اختلاف ہے جس کو ہدایہ کی کتاب الصید میں ذکر فرمایا ہے ۱۲ منہ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع