30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر بھی نقض کو موجود،لاجرم صورت سوم مقصود یعنی جہاں قبل ذبح قطع اوداج بین اللبۃ واللحیین واقع ہولے وہاں محل ذبح نہ رہا، یعنی محلیت وقابلیت ذبح فوت ہوگئی کہ ذبح دوبار ہ نہیں ہوتا،اورجہاں یہ معنی قبل ذبح متحقق نہ ہوئے عام ازیں کہ سرے سے اوداج قطع ہی نہ ہوئیں یا کسی ایسے فعل سے کہ انسان کی طرف منسوب نہ ہو قطع تو ہوئیں مگر موضوع ذبح پر قطع نہ ہوئیں ا ورہنوز حیات باقی ہے وہاں محل ذبح فوت نہ ہواذبح کرسکتے ہیں او رموجب حلت ہوگا،اب فروع میں تطابق ہوگیا اور صورت مسئولہ کاحکم بھی کھل گیا،فرع سوم سے مراد اس طرح سرجدا کرنا ہے کہ بین اللبۃ واللحیین قطع اوداج نہ ہو کہ اگر چہ قطع واقع ہو مگر محل ذبح میں نہ ہوا تو معنی ذبح قبل ذبح متحقق نہ ہوئے اور فرع اول سے مراد وہ قطع اوداج ہے کہ بین اللبۃ واللحیین ہوکہ اب تقدم معنی ذبح سے قابلییت ذبح،ا ور الا ماذکیتم کے تحت میں داخل ہونے کی صلاحیت نہ رہی اور یہی صورت کہ اس فرع ملتقط میں مرادہے،جو بظاہر فرع سوم کے صریح مناقض ہے،اسی عالمگیری میں عبارت وجیز سے پہلے ہے:
|
سنور قطع راس دجاجۃ فانہا لا تحل بالذبح وان کان یتحرك کذا فی الملتقط [1]۔ |
مرغی کا سر بلی نے کاٹ دیا تو وہ ذبح کرنے سے حلال نہ ہوگی اگرچہ وہ ذبح کے وقت حرکت کرے ملتقط میں یوں ہے۔(ت) |
اور فرع دوم خود ظاہر ہے کہ اس میں سرے سے قطع اوداج ہی نہیں،اب تمام فروع متفق اور سب مذہب امام ہمام رضی الله تعالٰی عنہ پر منطبق ہیں،ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق (یوں تحقیق چاہئے کہ الله تعالٰی ہی توفیق کا مالك ہے۔ت) ظاہر ہے کہ صورت سوال فرع دوم کے مثل ہے،اور اس میں بھی قطع نہیں اور ذبح قطع ہے،تو معنی ذبح قبل ذبح متحقق نہ ہوئے،کیا اگر جانور کی رگہائے گردن برمے سے چھیددیں ذبح ہوجائے گا،ہر گز نہیں،کہ چھیدنا قطع کرنا نہیں تو محلیت ذبح ضرور موجود ہے اور بعد ذبح حلت لازم،یہیں سے دو سوال باقی کا جواب ظاہر ہوگیا اور سب مذبح کھالیا محل ذبح نہ رہا،یونہی اگر عقدہ توڑ لیا تو قطع اوداج محل ذبح میں بھی واقع ہوا،بہر حال اب قابلیت ذبح نہ رہی،حلت نہیں ہوسکتی اور اگر عقدہ سے اوپر صرف سر جدا کرلیا کہ بین اللبۃ واللحیین قطع اوداج نہ ہوا تو محل ذبح باقی ہے،بعد ذبح حلت چاہئے اگر ہنوز روح باقی ہو،ھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی (میری سمجھ میں یوں ہے،علم حق تو میرے پروردگار کے ہاں ہے۔ت) والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع