30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنی ہوگی فاقول: وبہ نستعین اس فوت کے یہ معنی تو بداہۃ نہیں کہ محل ذبح مابین اللبۃ واللحیین تھا وہ معدوم ہوگیا کہ کلام قطع اوداج میں ہے،نہ اس صورت میں کہ بھیڑیا سینہ تك ساری گردن کاٹ کر لے گیا،نہ یہ معنی ہیں کہ محل ذبح اوداج تھیں وہ فنا ہوگئیں کہ قطع تفریق اتصال ہے نہ کہ اعدام،لاجرم یہ معنی ہیں کہ محل اگر چہ باقی ہے مگر اس میں قابلیت فعل ذبح کی نہ رہی،تو محل من حیث ہو محل فوت ہوگیا،اگرچہ ذات باقی ہے،اب فنائے قابلیت میں نظر چاہئے کہ کس صورت میں اس کا فوت ہوناہے،یہاں اس کی تین صورتیں متصور:
اول: یہ کہ اب معنی ذبح متحقق نہیں ہوسکتے۔
دوم:مقصود ذبح فوت ہوگیا،اور شے جب مقصود سے خالی ہو باطل ہوجاتی ہے۔
سوم: معنی ذبح قبل ذبح فعل غیر ذبح شرعی سے متحقق ہولئے،اور ذبح صالح کی تکرارنہیں،مذبوح کو ذبح نہیں کرسکتے،ولہذا اگر مسلمان نے جانور ذبح کردیا اور وہ ابھی پھڑك رہا ہے،دوبارہ مجوسی نے ذبح کیا حرام نہ ہوگا،او ر اس کا عکس ہو توحلال نہ ہوسکے گا،فان الذبح لا یعاد(کیونکہ ذبح دہرایا نہیں جاتا۔ت) اول کی طرف راہ نہیں کہ معنی ذبح قطع اوداج حی بین اللبتہ واللحیین ہے۔کنز میں فرمایا:الذبح قطع الاوداج [1](ذبح کی اوداج کو کاٹنا ہے۔ت) پھر فرمایا:والذبح بین الخلق واللبۃ [2](ذبح حلق اور لبہ کے درمیان ہے۔ت) تبیین الحقائق میں فرمایا:
|
والمیت لیس بمحل للذکاۃ [3]۔ |
میت محل ذبح نہیں۔(ت) |
جب تك جانور زندہ ہے اور گلا اور اس پر وہ رگیں باقی ہیں ضرور قابل قطع ہیں تو معنی ذبح متحقق نہ ہوسکنا کیا معنی،قطع اوداج کا جواب اوپر معلوم ہولیا کہ فرع سوم میں بھی قطع اوداج متحقق ہے۔اور حکم حلت ہے یونہی دوم کی گنجائش نہیں،اگرکہئے مقصود ذبح انہاردم تھا اور وہ فعل سبع سے ہولیا،تو یہ وجودًا وعدما ہر طرح باطل ہے۔فرع سوم میں انہاردم ہوگیا اور قابلیت ذبح باقی ہے اور وقت ذبح حیات معلوم ہو اور ذبح سے خون نہ نکلے حلت ہوجائے گی،کما تقدم،حالانکہ انہاردم نہیں،اگر کہے مقصود ذبح ازباق روح ہے،اور وہ اس صورت میں فعل سبع کی طرف منسوب ہوگانہ کہ جانب ذبح،تویہ وہی قول صاحبین غیر مفتی بہ ہے کماقدمنا عن الہدایۃ (جیسا کہ ہدایہ میں سے گزرچکا ہے۔ت) معہذا فرع سوم اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع