30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو جب سر جدا کردیا قطعایہ رگیں قطع کردیں،تو فرع اول کے حکم سے فرع سوم میں بھی حرمت چاہئے تھی اور حکم یہ دیا کہ ذبح کرے تو حلال ہے۔ا ب اگر یوں توفیق کیجئے کہ ہمارے امام کے نزدیك صحت ذبح کے لئے مطلقًا حیات درکار ہے،اگرچہ اسی قدر جو مذبوح میں بعد ذبح ہوتی ہے،اور صاحبین کے نزدیك اتنی حیات کافی نہیں،امام محمد فرماتے ہیں بس اس سے زائد ہو،اورشرط نہیں،اور امام ابویوسف فرماتے ہیں:نہیں،بلکہ یہ چاہئے کہ اتنے زخم کے بعد جانبر ہوسکے،ہدایہ میں ہے:
|
لو انہ ذکاہ حل اکلہ عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فیہ حیوۃ خفیۃ،اوبینۃ،و علیہ الفتوی،لقولہ تعالٰی اِلاَّ مَا ذَکَّیْتُمْ مطلقًا من غیر فصل وعند ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی اذ اکان بحال لایعیش مثلہ لایحل لانہ لم یکن موتہ بالذبح،وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی ان کان مثلہ فوق مایعیش المذبوح یحل،والا فلا لانہ لامعتبر بہذہ الحیوۃ [1]۔ |
اگر ذبح کے وقت خفیف سی زندگی بھی ہو اور ذبح کرلی گئی تو امام صاحب رضی الله تعالٰی عنہ کے نزدیك اس کا کھانا حلال ہے،اور اسی پر فتوٰی ہے الله تعالٰی کے ارشاد الا ماذکیتم مطلق کی بناء پر،جس میں کوئی تفصیل نہیں ہے،اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالٰی کے نزدیك وہ ایسی حالت میں ہوکہ زندہ نہ رہ سکے تو حلال نہ ہوگی کیونکہ ایسی صورت میں اس کی موت ذبح سے واقع نہ ہوگی،اور امام محمد رحمہ الله تعالٰی عنہ کے نزدیك ایسی حالت میں ہوکہ ذبح شدہ سے زیادہ دیر تك زندہ رہ سکتی ہو تو ذبح کرنے سے حلال ہوگی ورنہ نہیں،کیونکہ ایسی زندگانی کااعتبار نہیں کیا جاتا۔(ت) |
فرع اول قول صاحبین پر مبنی ہے کہ قطع اوداج کے بعد حیات،حیات مذبوح سے اصلا زائد نہیں ہوتی،لہذا وہ حکما میت ہے،اور میت محل ذبح نہیں،تو اب ذبح نہیں کرسکتے لفوات محل الذبح،اور فرع سوم قول امام پر مبنی ہے کہ اگرچہ سر جداہوگیا مگر جبکہ جانور ابھی تڑپ رہا ہے حیات باقی ہے اگر چہ حیات مذبوح سے زائد نہیں سہی،لہذا محل ذبح ہے ذبح کرلیں حلال ہوجائے گا،اور فرع دوم میں اگر صرف جلد چاك ہوئی کہ سی کر اندمال وحیات متصور ہو تو بالاجماع حلال ہے،اور نامتصور ہو تو صرف قول امام پر،یوں اگر توفیق کریں جب تو ظاہر ہے کہ فرع اول سے استناد صحیح نہیں،کہ وہ خلاف قول امام وخلاف مذہب مفتی بہ ہے اور اگر ایسی تاویل چاہئے کہ وہ بھی قول امام کی طرف رجوع کرآئے تو اب فوات محل ذبح میں تنقیح مناط
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع