30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حیۃ تذکی لبقاء محل الذ بح فتحل لوذبحت ولو انتزع الذئب راس الشاۃ وبقیت حیۃ تحل بالذبح بین اللبۃ واللحیین [1]۔ |
اس کا پیٹ پھاڑ دیا اور ابھی زندہ ذبح کے قابل ہے تو ذبح کی جائے کیونکہ ذبح کا محل باقی ہے،اور اگر بھیڑئیے نے سر کاٹ لیا ابھی زندہ تھی اور ذبح کرلی گئی لبہ اورلحیہ کے درمیان سے تو حلال ہوگی۔(ت) |
صورت مسئولہ کا آیہ کریمہ کے اطلاق اورہمارے امام اعظم کے مذہب مفتی بہ میں داخل ہونا ظاہر ہے اور عبارت وجیز اس سے متعلق نہیں۔وجیز میں وہ صورت منع کی ہے،درندہ رگیں قطع کردے،اور سوراخ کرنا قطع کردینا نہیں کہ اس میں سینہ سے سر تك رگوں کا اتصال بحال رہتاہے،اور قطع اس وصل کا فصل کردیناہے۔ردالمحتارمیں علامہ علی مقدسی سے ہے:
|
المراد بقطعہما فصلہما من الراس اوعن الاتصال باللبۃ [2]۔ |
کاٹنے سے مراد یہ کہ سرسے جدا کرلیا یا لبہ سے تعلق کاٹ دیا۔(ت) |
جواب مسئلہ کو اسی قدر بس ہے،اور اگر تحقیق مقام درکار ہو فاقول: وبالله التوفیق (تومیں الله تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) وجیز کی عبارت مذکورہ میں تین فرعیں ہیں؟
اول: بھیڑیا نے بکری کی رگہائے گردن کاٹ دیں۔
دوم: پیٹ چاك کردیا۔
سوم: سر جدا کردیا۔
پہلی میں حکم دیا ہے کہ ذبح نہیں ہوسکتی،اور دو باقی میں فرمایا ذبح کرلیں حلال ہوجائے گا،اول و سوم کے حکم میں بظاہر صریح تناقض ہے،یہ رگیں دماغ سے دل تك ہوتی ہیں،بدائع وفتاوائے امام قاضی خاں وردالمحتاروغیرہامیں ہے:
|
الاوداج متصلۃ من القلب بالدماغ [3]۔ |
اوداج،دل تا دماغ متصل ہوتی ہے۔(ت) |
[1] فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الذبائح الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۰۸
[2] ردالمحتار کتاب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۸۷
[3] ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۰۵،بدائع الصنائع کتاب الذبائح والصید فصل واما بیان شروط حل الاکل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۵۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع