30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بغیر خدا کے بتائے وہابیہ نے اپنی طرف سے حرام کہہ دیا،اور دوسری صورت جو خود وہابیہ لیتے ہیں اس سے بھی سخت تر ہے کہ جسے الله عزوجل نے حلال بتایا اسے حرام بتاتے ہیں،والعیاذبالله تعالٰی،پانچ اشیاء سے باقی ماندہ میں جو مرگئی صالح ذبح نہ رہی،اور جس میں کچھ بھی حیات باقی ہے اگر چہ کتنی ہی خفیف ہو،اگر چہ اس کی حالت کتنی ہی ردی ہو،اگر چہ اس میں صرف مذبوح کی سی تڑپ باقی ہو،جب ذبح کرلی جائیگی مطلقًا حلا ل ہو جائے گی اگرچہ ذبح کے وقت نہ خون دے نہ تڑپے جبکہ وقت ذبح اس میں حیات ثابت ہو اس لئے کہ رب عزوجل نے استثناء میں کوئی تفصیل نہ فرمائی،یہی ہمارے امام اعظم رضی الله تعالٰی عنہ کا مذہب ہے،اور اسی پر فتوٰی،درمختارمیں ہے:
|
ذبح شاۃ مریضۃ فتحرکت اوخرج الدم حلت والا لا،ان لم تدرحیاتہ عندالذبح وان علم حیاتہ حلت مطلقًا وان لم تتحرك ولم یخرج الدم،وہذا یتأتی فی منخنقۃ و متردیۃ ونطیحۃ والتی بقرا لذئب بطنہا،فذکاۃ ہذہ الاشیاء تحلل وان کانت حیاتہا خفیفۃ،وعلیہ الفتوی لقولہ تعالی الا ماذکیتم من غیر تفصیل [1]۔ |
بیمار بکری کو ذبح کیا جبکہ اس نے حرکت کی اور خون نکلا تو حلال ہے،ورنہ نہیں بشرطیکہ ذبح کے وقت زندہ ہونا معلوم نہ ہو سکا،اور اگر اس موقعہ پر زندہ ہونا معلوم تھا تو مطلقًا حلال ہے اگر چہ حرکت نہ کی اور نہ خون نکلاہو،یہ صورت گلہ گھونٹی ہوئی،اوپر سے گرنے والی،سینگ زدہ،اور جس کا پیٹ درندے نے پھاڑ دیا ہو،میں پائی جاتی ہے تو ایسے جانور ذبح کردئے جائیں تو حلال ہوں گے،اگر چہ ذبح کے وقت خفیف سی زندگی معلوم ہوجائے اور اسی پر فتوٰی ہے الله تعالٰی کے قول الاماذکیتم مطلق کی بناء پر۔(ت) |
ولہذا ہمارے علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر درندہ نے جانور کا پیٹ چاك کردیا،یابالکل سر سےجداکر کے لے گیا،اور ابھی اس میں حیات باقی ہے ذبح کرنے سے حلال ہوجائے،وجیز کردری جس سے بحوالہ عالمگیری سوال میں استدلال ہے،اس کی پوری عبارت کتاب السیرسے چند سطر پہلے یہ ہے:
|
شاۃ قطع الذئب اوداجہا وھی حیۃ لاتذکی لفوات محل الذبح،ولو بقرالذئب بطنہا وھی |
بھیڑئیے نے بکری کی اوداج (گلے کی رگیں) کاٹ دیں ابھی زندہ ہے مگر ذبح کے قابل نہ ہو تو ذبح نہ ہوگی کیونکہ ذبح کا محل نہ رہا،اور بھیڑئیے نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع