30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پکڑا اور خون پینے کے لئے رگوں کو چھیدڈالا باسنانہٖ،اور بکری زندہ ہے،اگر ذبح کی جائے تو حلال ہوسکے گی یا نہیں؟ ادھر کشمیر اور پونچھ کے مفتی عدم حلت کا فتوٰی دیتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ وجیزامام کردری اور فتاوٰی عالمگیری میں ایسے جانور کوحرام لکھا ہے،
|
شاۃ قطع الذئب اوداجہا لا تحل بالذکوٰۃ وھی حیۃ [1]۔ |
بھیڑئیے نے بکری کی اوداج (گلے کی رگیں) کاٹ دیں اور ابھی زندہ تھی تو ذبح کردی گئی تو حلال نہ ہوگی۔(ت) |
سے استدلال کرتے ہیں،اورنیز کہتے ہیں کہ چار رگیں کاٹنی فرض تھیں وہ شیر نے کاٹ ڈالیں،حالانکہ شیر رگیں بالکل نہیں کاٹتا صرف انھیں بیچ میں سے چھید ڈالتا ہے،مثلا رگ کی اصل صورت یہ ہے،زخمی اس طرح ==== کردیتاہے،بسا اوقات دو ہی رگوں کو دانت مارتا ہے،موافق مذہب امام اعظم رضی الله تعالی عنہ جواب ارشاد فرمایا جائے،اگر (ولو فرض) عقدہ توڑ جائے اور سب مذبح کھا جائے،تو اس صورت میں کیاحکم ہوگا؟ بینوا بالکتاب تو جروا یوم الحساب (کتاب سے بیان فرمائیے یوم حساب اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
الله عــــــہ عزوجل فرماتاہے:
|
عــــــہ:ایضا فتوائے مولوی محمد مرتضٰی از بلکوٹ،ڈاکخانہ اوڑی،ریاست کشمیر کہ در تحریم مقطوع الاوداج من السبع بود ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ ایں عبارت نوشتہ شد فی الواقع اگر درندہ محل ذبح کہ مابین اللبۃ واللحیۃ ست دو یا بیشتر اوداج رابرید کہ اتصال آنہا بد ماغ یا سینہ منقطع شد حالاذبح نتواں شد |
نیز مولوی مرتضٰی از بلکوٹ ڈاکخانہ اوڑی،ریاست کشمیر،نے درندہ کی قطع کردہ اوداج (گلے کی رگیں) پر جانور کو حرام قرارد ینے کا فتوٰی ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ کو دیا،وہ عبارت یہ ہے:اگر فی الواقع درندے نے مقام ذبح جولبہ اورلحیہ کے درمیان ہے میں د ویا زیادہ اوداج کو کاٹ دیا ہو کہ ان کا تعلق دماغ یا سینے سے منقطع ہوگیا ہو ایسی صور ت میں (باقی اگلے صفحہ پر) |
[1] فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الوجیز کتاب الذبائح الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۹۱،فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الذبائح الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۰۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع