30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدر وغیرہ عامۃ معتمدات المذہب،ولذا قال فی ردالمحتار المعتمد خلافہ بدلیل قولہم بصحۃ التضحیۃ بشاۃ الغصب واختلافہم فی صحتہا بشاۃ الودیعۃ ولذا قال السائحانی،اقول:ھذا ینا فی ما تقدم فی الغصب،وفی الاضحیۃ فلا یعول علیہ [1] اھ، ما فی ردالمحتار،اقول:و یؤید حدیث شاۃ ذبحت بغیر اذن مالکہا،وقدمت للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم فاخبرہ بذٰلك لحمہا،فلم یتناول منہ وامر بحملہ الا ساری،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یہ اس لئے غیر معتبر ہے کہ درمختار اور دیگر عام کتب مذہب کے بیان کے خلاف ہے اور اسی لئے ردالمحتار میں فرمایا اس کا خلاف معتمدعلیہ ہے اس پر دلیل فقہاء کا یہ قول ہے کہ غصب شدہ بکری کی قربانی صحیح ہے،اور امانت بکری کے متعلق اختلاف کیا،اور اسی لئے سائحانی نے فرمایا میں کہتاہوں کہ یہ غصب میں بیان شدہ کے خلاف ہے اور قربانی کے بیان سے بھی مخالف ہے،ردالمحتارکا بیان ختم ہوا، اقول:(میں کہتاہوں) اس کی تائید اس حدیث شریف سے ہوتی ہے مالك کی اجازت کے بغیر ذبح شدہ بکری حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی اور آپ کو واقع بتایا گیا تو آپ نے وہ گوشت نہ کھایا اور آپ نے وہ گوشت قیدیوں کو دے دینے کا حکم فرمایا،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۳۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی کافر نے ایك بکری پر اہلال لغیرالله کیا،اور بنام خدا ذبح کرنا چاہا،پھر کسی کے کہنے سے ذبح موقوف کرکے ایك شخص کو ہبہ کردیا نہ کہ اس غیر کے نام پر بلکہ جیسے،آپس میں ایك دوسرے کو ہبہ کرتے ہیں،آیا موہوب لہ کو خدا کے نام پر ذبح کرکے کھانا اس کا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
عندالتحقیق کریمہ " وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِۚ"[2] میں اہلال وقت ذبح مقصود،یعنی اس وقت اگر نام غیر خدا لیا گیا حرام ہے،اس معنی پر آیہ کریمہ کو صورت مسئولہ سے کچھ علاقہ ہی نہیں،اوربعض نے جو پیش از ذبح جانور پر نام غیر خدا پکاردینا مراد رکھا،ان کے نزدیك بھی استمرار اسی کاتادم شرط حرمت ہے۔استدلال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع