30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان غصب وغیر فزال اسمہ واعظم منافعہ ضمنہ و ملکہ بلاحل انتفاع قبل اداء ضما نہ کذبح شاۃ و طبخہا اوشیہا [1] اھ ملخصا۔ |
اگر دوسرے شخص نے جانور غصب کیا اور اس میں کوئی تغیر کردیا تو اس کا نام زائل ہوگیا اور اس کے منافع بڑھالئے ضمان دیا تو مالك ہوجائے گا اور ضمان کی ادائیگی سے قبل اس کو انتفاع حلال نہ ہوگا مثلا ذبح کرکے پکالیا یا بھون لیا تو مالك ہوجائے گا۔اھ ملخصا (ت) |
اسی میں ہے:
|
ذبح شاۃ غیرہ طرحہا المالك علیہ،واخذ قیمتہا او اخذہا وضمنہ نقصانہا [2]۔ |
غیر کی بکری ذبح کی تومالك نے اس کے ذمہ ڈال دی اور اس کی قیمت وصول کرلی یا وہ ذبح شدہ بکری مالك نے رکھ لی اور نقصان کا ضمان وصول کرلیا (ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
لانہ اتلاف من وجہ لفوات بعض المنافع کالحمل و الدروالنسل و بقاء بعضہا وھو اللحم،[3] درر۔ |
کیونکہ یہ من وجہ اتلا ف ہے حاملہ ہونے،دودھ اور نسل کے اعتبار سے اورمن وجہ باقی ہے گوشت کے اعتبار سے درر،(ت) |
اسی طرح ہدایہ وغیرہا میں ہے:
|
فظہران ماوقع فی اٰخرالصید من الدر المختار،بما نصہ ورأیت بخط ثقۃ سرق شاہ فذبحہا بتمسمیۃ فوجد صاحبہا ھل توکل،الاصح لا،لکفرہ بتسمیتہ علی الحرام القطعی بلا تملك ولا اذن شرعی اھ فیحرر [4] اھ فغیر معتمد ولا محرر،لمخالفتہ لما |
تو درمختار کے باب الصید کے آخر میں جو واقع ہے وہ غیر معتمداورغیر محرر ہے،وہ عبارت یہ ہے،"میں نے ثقہ عبارت میں پایا کہ کسی نے بکری چوری کرکے ذبح کرلی اور اس پر بسم الله پڑھی تو مالك ناراض ہوا،کیا وہ کھائی جائے گی؟ (جواب) اصح یہ ہے کہ نہ کھائی جائے کیونکہ حرام قطعی پر بسم الله پڑھنے سے کفر ہونے کی بناء پر ملکیت اور اذن شرعی کے بغیر یہ عمل ہوا"،اھ اس کو واضح کیا جائے اھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع