30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی شخص کسی کا جانور چوری یا غصب سے لے کر ذبح کرے،اور ابھی پکانے یا بھوننے نہ پایا ہو،تو مالك کو اس کا لے لینا اور خود کھانا حلال،اور جسے وہ اجازت دے اسے بھی حلال،ہاں بے اس کی اجازت کے یہ ذبح کرنیوالا نہ خود کھا سکتاہے نہ دوسرے کو کھلاسکتاہے اسے حرام ہے جب تك اس کا تاوان ادانہ کرے،یہ حرمت تعلق غیر کے سبب ہے نہ اس وجہ سے کہ ذبح صحیح نہ ہوا،جس طرح ذابح کے پکالینے یا بھوننے کے بعدمالك کو اس کے لے لینے کا اختیارنہیں کہ اب ذابح اس کامالك ہو گیا اصل مالك کو صرف تاوان لینے کا اختیار رہا،جب یہ تاوان لے لے گا ذابح کو اس کا کھانا حلال ہوجائے گا،درمختار میں اشباہ سے ہے:
|
لو شراہا بنیۃ الاضحیۃ فذبحہا غیرہ بلااذنہ فان اخذہا مذبوحۃ ولم یضمنہ اجزأتہ۔وان ضمنہ لا تجزئہ وہذا اذا ذبحہا عن نفسہ،واماا ذا ذبحہا عن مالکہا فلاضمان علیہ [1]۔ |
اگر قربانی کی نیت سے بکری خریدی تو کسی دوسرے شخص نے اس کی اجازت کے بغیر اسے ذبح کردیا تو اگر مالك نے وہ ذبح شدہ بکری رکھ لی اور اس سے ضمان نہ لیا تو مالك کی قربانی جائز ہوگی اور اگر ضمان لیا تو قربانی جائز نہ ہوگی یہ اس صورت میں ہے کہ جب ذبح کرنے والے نے اپنی طرف سے جانور ذبح کیا ہو اور اگر اس نے مالك کی طرف سے ذبح کیا تو اس پر ضمان نہ ہوگا۔(ت) |
عالمگیریہ میں محیط سرخسی سے ہے:
|
رجل ذبح اضحیۃ غیرہ عن نفسہ بغیر امرہ،فان ضمنہ المالك قیمتہا یجوز عن الذابح دون المالك لانہ ظہر ان الاراقۃ حصلت علی مبلکہ وان اخذھا مذبوحۃ تجزئ عن المالك لانہ قد نواہا فلیس یضرہ ذبح غیرہ لہا [2]۔ |
کسی شخص نے غیر کی قربانی کو اپنی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر ذبح کرلیا تو مالك نے اس کو جانور کی قیمت کا ضامن بنایا تو وہ قربانی ذبح کرنے والے کی طرف سے ہوگی مالك کی نہ ہوگی کیونکہ واضح ہوگیا کہ ذبح کرنے والے نے اپنی طرف سے قربانی دی ہے اور اگر مالك نے ذبح شدہ کو لے لیا تو قربانی مالك کی جانب سے ادا ہوئی کیونکہ اس نے قربانی کی نیت کررکھی تھی تو غیر کا ذبح کرنا مضرنہ ہوگا۔(ت) |
تنویرمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع