30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بتوفیق اﷲ تعالٰی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اسے ہم نے بتوفیق الہٰی اپنے فتاوٰی میں تفصیل سے بیان کردیا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۳۵: از رامہ ڈاك خانہ جاتلی تحصیل گوجر خاں ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۸ شوال ۱۳۳۸ھ
مذبوحہ شدہ مالك کو دستیاب ہوجائے،ذابح نامعلوم ہے،کیا یہ مذبوحہ حلال ہوگی یا نہیں؟
الجواب:
حلال ہے مگر جب کہ اس گمان کا محل ہو کہ ذابح مرتد یا مشرك یا مجوسی ہے۔حلبی وشامی علی الدرر میں ہے:
|
الاولی ان یقال ان کان الموضع مما یسکنہ او یسلك فیہ مجوسی لایوکل والا اکل ولایعترض بشأن ترك التسمیۃ عمدا،فان ہذا موہوم لایعارض الراجح [1]۔و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یہ کہنا بہترہے،ایسا موضع جہاں مجوسی رہتا ہو وہاں اس کا آنا جانا ہو تو وہاں کانہ کھایا جائے ورنہ کھایا جائے،اور قصدا بسم الله کو ترك کی صورت سے اعتراض نہ کیا جائے کیونکہ یہ احتمال موہوم ہے جو راجح احتمال کا مقابل نہیں بن سکتا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۳۶:از موضع بکاجبی والا،علاقہ جاگل تھانہ ہری پور ڈاکخانہ کوٹ نجیب الله خاں مرسلہ مولوی شیر محمد ۲ رمضان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ اگر کوئی شخص کسی کی بکری یا او ر کوئی حلال جانور چرا کر ذبح کرے تو وہ جانور اس کے ذبح کرنے سے حلال ہوجائے گا یا نہیں؟ اور اس کا کھانا کیسا ہے؟ اور اس ذبح کرنیوالے کے لئے کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
یہ شخص ملك غیر میں بے اس کی اجازت کے تصرف کرنے سے گنہ گار ہوا،مگر اگر یہ ذبح کرنیوالا اہل ذبح ہے اور تکبیر اس نے قصدًا ترك نہ کی تو جانور کاذبیحہ صحیح ہوگیا یہاں تك کہ اگر یہ جانور مالك نے خاص قربانی کے لئے خریدا تھا اور اس شخص نے ایام قربانی میں اپنی طرف سے ذبح کرلیا،اور مالك نے یونہی ذبح کیا ہوا اس سے لے لیا تو مالك کی قربانی ادا ہوگئی اور اگر مالك نے تاوان لے لیا تو ذابح کی قربانی اد اہوگئی اور اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع