30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یقبل قول المملوك ولو انثی، والصبی، فی الہدیۃ، وقیدہ فی السراج بما اذا غلب علی رائہ صدقہم [1]اھ ملخصا۔ |
غلام عورت ہو یا بچہ ہو اس کی بات قبول ہوگی، ہدیہ میں اور کہ اس بات کو سراج میں اس قید سے مقید کیا ہے کہ اس کی رائے میں اس مملوك غلام کی سچائی غالب ہواھ ملخصا (ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
ثم قال کمافی المنح وان لم یغلب علی رأیہ ذٰلك لم یسعہ قبولہ منہم، لان الامر مشتبہ علیہ، اھ، قال الاتقانی لان الاصل انہ محجور علیہ، والاذن طاری، فلا یجوز اثباتہ بالشك [2]۔ الخ، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
پھر منح میں کہا گیا کہ اگر اس کی سچائی پر غلبہ ظن نہ ہو تو پھر اس کی بات کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ معاملہ اس پر مشتبہ رہے گا اھ، اتقانی نے کہاکہ اصل ممانعت ہے اوراجازت بعد والی چیز ہے، لہذا شك کے ساتھ اجازت ثابت نہ ہوگی الخ والله سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت) |
مسئلہ ۱۳۴: از ضلع لاہور مقام چونیا مسئولہ انوارالحق بروز چہارشنبہ بتاریخ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اس شہر میں حلال خور یعنی چوُہڑے درپردہ گائے ذبح کراکے گوشت فروخت کرتے ہیں، بعض مسلمان ان سے خریدلیتے ہیں، اگر ان سے منع کیا جائے تو زید کہتاہے کہ مولوی عبدالحی کے فتاوٰی میں لکھاہے اگر جانور کو مسلمان ذبح کرے اور فروخت کافر کرے تو کھاناجائز ہے، جب شریعت جاز کرتی ہے تو تم کیوں نفرت کرتے ہو، یا حضرت ! چوہڑوں سے گوشت کھانا مسلمان کو بہت برا معلوم ہوتاہے برائے مہربانی تحریر فرمائیں کہ اگر جائز ہو تو نفرت نہ کی جائے۔ فقط
الجواب:
گوشت میں اصل یہ کہ جانور مثلا گائے جب تك زندہ ہے اس کا گوشت حرام ہے، اگر کوئی ٹکڑا کاٹ لیا جائے مردار اور حرام ہوگا، "ما ابین فی حی فھو میت"(زندہ جانور سے گوشت کاٹا تو وہ حرام ہے)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع