30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۳۳:۷ محرم الحرام ۱۳۱۳ھ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے گوسفند ذبح کیا ہوا اپنے ایك ملازم غیر کتابی کے ہاتھ مکان کو بھیجا اور آرندہ ذبیحہ نے یہاں کہا کہ یہ ذبیحہ فلاں شخص مسلم نے بھیجاہے۔ کھانا اس کامسلمان کو جائزہے یانہیں؟
الجواب:
اگر قرائن کی رو سے اس کافر کے اس قول میں شك پیدانہ ہو، ظن غالب اس کے صدق ہی کاہو، تو مسلمان کے لئے اس ذبیحہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہدیہ لانا از قبیل معاملات ہے اور معاملات میں کافر کی بات مقبول، او ر جب یہ مان لیا گیا کہ یہ ذبیحہ فلاں مسلم کا بھیجا ہوا ہے، تو اس کے ضمن میں حلت بھی مسلم ہوگئی، اگر چہ ابتداء حلت، حرمت، طہارت، نجاست وغیرہا امور خالصہ دینیہ میں کافرکا قول مقبول نہیں۔ ہدایہ میں ہے:
|
من ارسل اجیرا لہ مجوسیا اوخادما فاشتری لحما فقال اشتریتہ من یہودی اونصرانی اومسلم وسعہ اکلہ، لان قول الکافر مقبول فی المعاملات الخ [1]۔ |
جس نے اپنا مجوسی مزدور یا خادم گوشت خریدنے بھیجا تو اس نے واپس آکر کہا میں نے یہودی یا نصرانی یا مسلمان سے خریدا ہے تو مزدور یا غلام کا خریدا ہوا گوشت کھاناجائز ہے کیونکہ معاملات میں کافر کا قول مقبول ہے۔ الخ (ت) |
تبیین الحقائق ودرمختارمیں ہے:
|
المعاملات یقبل فیہا خبر کل ممیز حرا کان اوعبدا مسلما کان اوکافرا، کبیرا او صغیرا لعموم الضرورۃ فان الانسان قلما یجد المستجمع لشرائط العدالۃ لیعاملہ اویستخدمہ اویبعثہ الی وکلائہ ونحوذٰلك و لا دلیل مع السامع یعمل بہ سوی الخبیر [2]الخ۔ |
معاملات میں ہر باتمیز شخص کی بات مقبول ہے، وہ آزاد ہو یا غلام مسلمان ہو یاکافر ، وہ بڑا ہو یا نابالغ ہو کیونکہ ضرورت عام چیزہے جبکہ انسان معاملہ یا خدمت لینے یا اپنے وکلاء کے پاس بھیجنے کے لئے شرائط عدالت پر پورا اترنے والے کو بہت کم پاتا ہے اور سامع کے پاس خبر کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی، جس پر عمل کیا جائے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع