30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایقبل قول الکافر فی الدیانات الا اذا کان قبول قول الکافر فی المعاملات یتضمن قبولہ فی الدیانات، فح تدخل الدیانات فی ضمن المعاملات، فیقبل قولہ فیہا ضرورۃ [1]۔ |
دیانات میں کافر کا قول مقبول نہیں ماسوائے اس کے کہ جب معاملات میں اس کا قول ہو نے پر دیانات میں مقبول ہونے کو متضمن ہو تو ایسی صورت میں دیانات، معاملات میں داخل قرار پاتے ہیں۔ (ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
الجواب ان قولہ شریتہ من المعاملات، و ثبوت الحل والحرمۃ فیہ ضمنی ، فلما قبل قولہ فی الشراء، ثبت ما فی ضمنہ بخلاف مایأتی، وکم من شیئ یثبت ضمنا لاقصدا [2]۔ |
جواب یہ ہےکہ اس کا یہ کہنا کہ میں نے اسے خریدا ہے، یہ معاملات کی بات ہے اورحلال وحرام ہونا اس میں ضمنی چیز ہے تو جب خریداری کے متعلق اس کا قول مقبول ہے تو ضمنی امر بھی ثابت ہوجائے گا، آئندہ بیان اس کے خلاف ہے، تاہم بہت سی چیزیں ضمنًا ثابت ہوجاتی ہیں وہ قصدا ثابت نہیں ہوتیں۔ (ت) |
ولہذا اگر وہ نوکر کہے کہ بائع مشرك تھا گوشت حرام ہوگا، معلوم ہو اکہ بیچنے والے کا مشرك ہونا ہی حرمت گوشت کےلئے کافی ہے، تنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
|
قال اشتریت اللحم من کتابی فیحل، او قال اشتریتۃ من مجوسی فیحرم [3]۔ |
اس نے کہا میں نے یہ گوشت کتابی شخص سے خریدا ہے تو حلال ہوگا، یا اس نے کہا میں نے مجوسی سے خریدا ہے ، توحرام ہوگا، (ت) |
ہاں جب تك وہ گوشت ذابح مسلم خواہ او ر کسی مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہو تو اس مسلمان اور نیز دوسرے کو اس مسلم کی خبر پر کہ یہ وہی گوشت ہے جو مسلمان نے ذبح کیا، خریدنا اور کھانا سب جائز ہے کہ اب خبر مسلم ہے نہ کہ کافر ، مگر وہ مخبر ثقہ نہ ہو تو قلب پر اس کا صدق جمنا شرط ہوگا۔
|
فی التنویر شرط العدالۃ فی الدیانات و یتحری فی الفاسق والمستور [4]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تنویر میں ہے دینی امورمیں عدالت شرط ہے اور فاسق یا مستور الحال شخص کی خبرمیں غور وفکر کرے،والله تعالٰی اعلم۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع