30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من نحرناقۃ اوذبح بقرۃ فوجد فی بطنہا جنینا میتالم یو کل اشعراولم یشعر وہذا عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، وقال ابویوسف ومحمدرحمہما اﷲ تعالٰی اذا تم خلقہ اکل۔[1] |
کسی نے اونٹنی یا گائے ذبح کی تو اس کے پیٹ میں بچہ مردہ پائے تو اسے نہ کھایا جائے اس پر بال ہوں یا نہ ہوں، اور یہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالٰی عنہ کے نزدیك ہے اور امام ابویوسف اور امام محمدرحمہما الله تعالٰی نے فرمایا اگر وہ بچہ تام الخلقت ہو تو کھانا چاہئے۔ (ت) |
اسی طرح درمختارو غیرہ عائمہ کتب میں ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸ تا ۱۳۱: از ریاست کوٹہ راجپوتانہ ملك ہاڑوتی قصبہ سانگور مسئولہ مسلمانان سانگور ۲۱ رمضان ۱۳۳۵ھ
ہادی دین، پناہ شریعت، علمائے عظام ومفتیان کرام سلمکم الله تعالٰی، بعد سلام علیك کے گزارش یہ ہے کہ یہاں پرقصبہ سانگور ریاست کوٹہ راجپوتانہ میں کٹھیك لوگ قدیم زمانے سے گوشت کی دکان کرتے چلے آرہے ہیں، اور مسلمان بھی انھیں کے یہاں سے خریدتے ہیں، ان کھٹکوں کا دو ایك مرتبہ کچہری میں مردار گوشت کا مقدمہ جاچکاہے۔ اس لئے بوجہ شکوك اب ان کے یہاں سے مسلمانوں نے گوشت لینا قطعا بن دکردیا اور مسلمان قصائی آباد کرکے اس کے یہاں سے خریدنا شروع کردیا ہے، مگر دو ایك مسلمان جن کا تجارتی تعلق چمڑے وغیرہ کا کھٹکوں کے ساتھ ہے، وہ ایسا کہتے ہیں کہ یہ ضداور نیا مسئلہ ہے، جب ایك مدت سے مسلمان کھٹکوں کے یہاں کا گوشت لیتے چلے آرہے ہیں اور تمام جگہ کھٹك ہی لوگ فروخت کرتے ہیںِ تو یہ ایك نئی بات پیدا کرکے کھٹکوں کو ناحق نقصان دیا جارہاہے، کیا پہلے زمانے میں کوئی عالم نہ تھے، وہ کیوں کھا گئے، ان کے ایسا کہنے پر بہت سے مسلمان برگشتہ ہورہے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کے دنیا کی بدنامی کا خوف ہے اور اصلی جواب کے منتظر ہیں، مسلمانوں کی طرف سے کھٹکوں کے ساتھیوں کو سمجھایا گیا کہ تم ان سے بموجب شرع اس طرح پر انتظام کرادو:
(۱) نگراں مسلمان رہیں۔
(۲) گوشت مختلف مکانوں پر نہ ہو، جہاں مسلمان تجویز کریں۔
(۳) دبانے والا (۴) ذبح کرنے والا مسلمان ہو۔
ان چاروں شرطوں میں سے وہ شرط اول دوم وچہارم پر رضامند ہوتے ہیں، لیکن یہ رضامندی بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع