30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اللہِ عَلَیۡہِ"[1] |
ذبح میں الله کانام یاد کیا گیا۔ |
امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں:
|
انما کلفنا بالظاہر لابالباطن فاذا ذبحہ علی اسم اﷲ وجب ان یحل، ولا سبیل لنا الی الباطل [2]۔ |
یعنی ہمیں شرع مطہر نے ظاہر پر عمل کا حکم فرمایا ہے باطن کی تکلیف نہ دی، جب اس نے الله عزوجل کا نام پاك لے کر ذبح کیا جانور حلال ہوجانا واجب ہوا کہ دل کا ارادہ جان لینے کی طرف ہمیں کوئی راہ نہیں، |
یہ چند نفیس وجلیل فائدے حفظ کے قابل ہیں کہ بہت ابنائے زمان ان میں سخت خطا کرتے ہیںـ،
وباﷲ العصمۃ والتوفیق وبہ الوصول الی التحقیق (حفاظت وتوفیق الله تعالٰی کی طرف سے ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق تك رسائی ہے۔ ت) والله سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۲۶: از شہر بریلی مسئولہ عبدالجلیل طالب علم ۲۹ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گائے ذبح کی گئی او اس کا پیٹ جب چاك کیا توا س میں سے ایك بچہ زندہ کامل اعضا کا نکلا، مگر اس کے جسم میں بال نہیں آیا ہے، اس حالت میں بچہ کا گوشت حلال ہوجائے گا یا نہیں ذبح کرنے سے ؟ اور مردہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب:
بچہ کہ مردہ نکلے حرام، اور زندہ نکلے اور ذبح کرلیا تو حلال، والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۷: از اوجین مکان میرخادم علی اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں ۳ ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے مدقق ومحققین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو بچہ مردہ بکری مذبوحہ کے شکم سے برآمدہو بمذاہب امام اعظم کوفی رحمۃ الله علیہ حلال ہے یاحرام بیان فرمائیں بعبارت کتب رحمۃ الله علیہم اجمعین۔
الجواب:
ناجائز ہے، ہدایہ وعالمگیریہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع