30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرکت ظاہر ہے اگر چہ مذہب صحیح حرمت جانور ہے، مگر حکم کفرنہیں دیتے کہ وہ امر باطنی ہے،کیا معلوم کہ اس کی نیت کیا ہے۔
درمختارمیں ہے:
|
ان عطف حرمت نحوباسم اﷲ واسم فلان [1]۔ |
اگر الله تعالٰی کے نام پر دوسرے نام کا عطف کیا تو حرام ہے، مثلًا بسم الله واسم فلاں۔ (ت) |
ردالمحتارمیں ہے :
|
ھوا لصحیح وقال ابن سلمۃ لاتصیر میتۃ لانہا لو صارت میتۃ یصیر الرجل کافرا، خانیۃ، قلت تمنع الملازمۃ بان الکفر امر باطن والحکم بہ صعب فیفرق کذا فی شرح المقدسی، شرنبلالیۃ [2]۔ |
وہی صحیح ہے اور ابن سلمہ نے فرمایا مردار نہ ہوگا کیونکہ اگر مردار کہیں گے تو ذبح کرنے والے کو کافر قرار دینا ہوگا، خانیہ، میں کہتاہوں یہ ملازمہ ممنوع ہے کیونکہ کفر باطنی امر ہے اور اس کا حکم دشوار ہے تو فرق کرنا ضروری ہے، شرح مقدسی میں اسی طرح ہے، شرنبلالیہ، (ت) |
الله اکبر! خود ذابح کا خاص تکبیر ذبح میں نام خدا کے ساتھ نام غیر ملاکر پکارے اورکافر نہ ہو، جب تك معنی شرك کا ارادہ نہ کرے بلکہ بے عطف"بنام خدا بنام محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم"کہے اور اسی نام پاك کے لینے سے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہی چاہے، حضور کی عظمت ہی کے لئے خاص وقت ذبح بنام خدا کے ساتھ بنام محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کہے تو جانورمیں اصلا حرمت وکراہت بھی نہیں، مگر پیش از ذبح اگر کسی نے یوں پکاردیا کہ"فلاں کا بکرا، فلاں کی گائے"تو پکارنے والا مشرك اور اس کے ساتھ یہ لفظ منہ سے نکلتے ہی جانور کی بھی کایا پلٹ ہوکر فورا بکری سے کتا، گائے سے سور، اگر چہ وہ منادی غیر ذابح ہو، اگرچہ ابھی نہ وقت ذبح نہ دم تکبیر، معاذاللہ، وہ لفظ کیا تھے جادو کے انچھر تھے چھوتے ہی جانور کی ماہیت بدل گئی، ایسے زبردستی کے احکام شرع مطہر سے بالکل بیگانہ ہیں۔
بڑی دلیل ان کے قصد عبادات غیر ومعنی شرك پر یہ پیش کی جاتی ہے کہ"اس ذبح کے بدلے گوشت خرید کر تصدق کرنا ان کے نزدیك کافی نہیں ہوتا، تو معلوم ہوا کہ ایصال ثواب مقصود نہیں، بلکہ خاص ذبح للغیر وشرك صریح مراد ہے، اگر چہ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہمارا مطلب صرف ایصال ثواب ہی ہے"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع