30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نقلہ سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرح الطریقۃ المحمدیۃ۔ |
(اس کو سیدی عبدالغنی نابلسی نے شرح طریقہ محمدیہ میں نقل کیا ہے۔ت) |
والہذا منیہ وذخیرۃ وہبانیۃ ودرمختار وغیرہا میں ارشاد فرمایا:
|
انا لانسیئ الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الاٰدمی بہذا النحر [1]۔ |
ہم مسلمان پر بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ اس ذبح سے آدمی کی طرف تقرب چاہتاہو۔ |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وہذا بعید من حال المسلم [2]۔ |
یعنی اس تقرب سے تقر ب بروجہ عبادات مراد ہے کہ اس میں کفر ہے اوراس کا خیال مسلمان کے حال سے دور ہے۔ |
بلکہ علماء تو یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر خود ذابح خاص وقت تکبیر میں یوں کہے"بسم الله بنام خدائے بنام محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم"تویہ کہنا کہ مکروہ تو بیشك ہے مگر کفر کیسا! جانور حرام بھی نہ ہوگا،جبکہ اس لفظ سے اس کی نیت حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم محض ہو،نہ معاذالله حضور کو رب عزوجل کے ساتھ شریك ٹھہرانا،امام اجل فقیہ النفس قاضی خاں اپنے فتاوٰی میں تحریر فرماتے ہیں:
|
رجل ضحی وذبح وقال بسم اﷲ بنام خدائے بنام محمد علیہ السلام، قال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲ تعالٰی ان اراد الرجل بذکر اسم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بتبجیلہ و تعظیمہ جازولاباس و ان ارادبہ الشرکۃ مع اﷲ لا تحل الذبیحۃ [3]۔ |
کسی نے بنام خدا محمد علیہ السلام قربانی کی یا ذبح کیا، شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل رحمہ الله تعالٰی نے فرمایا: اگر اس شخص نے حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے نام سے صرف تعظیم و تبجیل مراد لی تو جائز ہے اور اگر الله تعالٰی کے ساتھ شریك بنایا تو ذبیحہ حلال نہ ہوگا ۔ (ت) |
بلکہ اس سے بھی زائد خاص صورت عطف میں مثلا"بنام خدا وبنام فلاں"جس سے صاف معنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع