30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لو ذبح للضیف لایحرم لانہ سنۃ الخلیل و اکرام الضیف اکرام اﷲ تعالٰی [1]۔ |
جس نے مہمان کی نیت سے ذبح کیا توحرام نہیں کیونکہ یہ خلیل علیہ السلام کی سنت اور مہمان کا اکرام ہے،اور مہمان کا اکرام الله تعالٰی کا اکرام ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
قال البزدوی ومن ظن انہ لایحل لانہ ذبح لاکرام ابن اٰدم فیکون اہل بہ لغیر اﷲ تعالٰی فقد خالف القراٰن والحدیث و العقل فانہ لاریب ان القصاب یذبح للربح ولو علم انہ نجس لایذبح فیلزم ہذا الجاہل ان لایاکل ماذبح القصاب وما ذبح للولائم و الاعراس والعقیقۃ [2]۔ |
بزازی نے کہا اور جس نے گمان کیا کہ وہ اس لئے حلا ل نہیں کہ اس میں بنی آدم کا اکرام ہے تو یہ غیر الله کے نام سے ذبح ہوا تو اس نے قرآن وحدیث اور عقل کے خلاف بات کی، کیونکہ بلا شبہ قصاب اپنے نفع کے لئے ذبح کرتاہے اگر اسے معلوم ہو کہ یہ نجس ہے تو وہ ذبح نہ کرے،تو ایسے جاہل کو چاہئے کہ وہ قصاب ذبح کردہ کونہ کھائے اور ولیمہ اور شادی اور عقیقہ کے لئے ذبح کردہ بھی نہ کھائے۔(ت) |
دیکھو علمائے کرام صراحۃً ارشاد فرماتے ہیں کہ مطلقًا نیت ونسبت غیر کو موجب حرمت جاننا اور ما اُھل بہ لغیر اﷲ میں داخل ماننا نہ صرف جہالت بلکہ جنون ودیوانگی اور شرع وعقل دونوں سے بیگانگی ہے،جب نفع دنیا کی نیت مخل نہ ہوئی تو فاتحہ اور ایصال ثواب میں کیا زہر مل گیا،اور اکرام مہمان عین اکرام خدا ٹھہرا تو اکرام اولیاء بدرجہ اولٰی۔
ہاں اگر کوئی جاہل اجہل یہ نسبت واضافت بقصد عبادت غیر ہی کرتاہے تو اس کے کفر میں شك نہیں۔پھر اگر ذابح اس نیت سے بَری ہے تو جانور حلال ہوجائے گا کہ نیت غیر اس پر اثر نہیں ڈالتی کما حققناہ اٰنفا(جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ت)
مگر جب کہ حدیثا وفقہًا دلائل قاہرہ سے ثابت کرچکے ہیں کہ اضافت معنی عبادت ہی میں منحصر نہیں،تو صرف اس بناء پرحکم کفر محض جہالت وجرأت وحرام قطعی اور مسلمانوں پر ناحق بدگمانی ہے،تم سے کس نے کہہ دیا کہ وہ آدمیوں کا جانور کہنے سے عبادت آدمیان کا ارادہ کرتے ہیں،اور انھیں اپنا معبودوخدا بنانا چاہتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع