30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر خبیث روحوں کو منانا تقرب الی الله نہیں ہوسکتا،شیخ سدو بھی ارواح خبیثہ سے شمار کیا گیا ہے،تو ذبح کرنے والے کی نیت اگر شیخ سدو کی طرف تقرب کی ہو جانور بلا شبہ مردار ہوجائے گا،اگر چہ بظاہر تکبیر ہی کہہ کر ذبح کیا گیا ہو،یہاں ذابح کی ہی نیت کا اعتبار ہے اگر چہ مالك کی نیت کچھ ہو،مثلامالك نے خالص الله عزوجل کے لئے ذبح کرنے کو جانوردیا ہے،ذابح نے اسے کسی بت کی بھینٹ چڑھادیا جانور بیشك حرام ہوگیا مالك کی نیت کچھ نفع نہ دے گی،یوہیں مالك نے اگر کسی بت یا شیطان ہی کے لئے ذبح کرنے کو کہا اور ذابح نے معبود برحق جل جلالہ کے لئے ذبح کیا جانور بیشك حلال ہے،مالك کی نیت کچھ نقصان نہ دے گی،پس صورت مذکورہ میں اگر ذابح نے سدو کی طرف تقرب کی نیت سے ذبح کیا اور ان مولوی کو اس کا یہ حال معلوم تھا،پھر اس سے گوشت کھایا،تویہ شخص مردار خور ہوا،اور اس کے پیچھے نماز منع ہے،اور اگراسے ذابح کی نیت معلوم ہوگئی تھی کہ اس نے وہ نیت فاسدہ نہ کی بلکہ خالص الله عزوجل کے لئے ذبح کیا،تو اگر چہ جانور حلال ہوگیا مگر بہتر اس سے بچنا تھا جبکہ مالك نے غیر خدا کے تقرب کے لئے دیا تھا،خصوصا اس شخص کو جو مولوی کہلاتاہو اور لوگ اس کے فعل کو حُجت جانتے ہوں،عالمگیری میں ہے:
|
مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارہم او الکافر لالہتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالٰی ویکرہ للمسلم [1]۔ |
مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے معبود کے آتشکدہ کے لئے یا کسی کافر کی بکری اس کے معبود کے لئے ذبح کی تو کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے الله تعالٰی کے نام سے ذبح کی ہے اور مسلمان کو یہ عمل مکروہ ہے۔(ت) |
اور اگرنیت معلوم نہ تھی اور یہ جان چکا تھا کہ یہ لوگ شیخ سدو کے منانے والے ہیں،اور بچنا اور اہم تھا کہ ارواح خبیثہ کے منانے والوں اور اس سے استعانت کرنے والوں کا ظاہر حال سخت مخدوش ہے،اور ایسی جگہ شہادت سے احتراز لازم اور اگر گوشت نہ کھایا بلکہ اور کھانا کھایا تو جب مولوی کہلاکر ایسے لوگوں کے یہاں اکل طعام کہ قلوب المسلمین میں شبہہ ڈالے ہر گز مناسب نہ تھا،والله تعالٰی اعلم۔
____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع