30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو جائز ہے یانہیں؟ اور " وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِۚ"[1]سے مراد قبل ذبح کے پکارا جاناہے یا وقت ذبح کے؟
الجواب الملفوظ
اصل کلی اس میں یہ ہے کہ ذابح کی نیت اور وقت ذبح اس کے تسمیہ کا اعتبار ہے اس کے سوا کسی بات کا لحاظ نہیں،اگر مالك نے خاص الله عزوجل کے لئے نیت کی ہے اورذابح نے بسم الله کی جگہ بسم فلاں کہا،یا بسم الله ہی کہا اور اراقت دم سے عبادت غیر خدا مقصود رکھی ذبیحہ مردار ہوگیا،اور اگر مالك نے کسی غیر خدا اگر چہ بت یا شیطان کےلئے نیت کی اور اسی کے نام کی شہرت دی اور اسی کے ذبح کرنے کے واسطے ذابح کودیا،اور ذابح نے خاص الله عزوجل کے لئے اس کانام پاك لے کر ذبح کیابنص قطعی قرآن حلال ہوگیا۔
|
قال اﷲ تعالٰی " وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ"[2] ۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:تمھیں کیا ہوا کہ اس چیزمیں سے نہ کھاؤ جس پر الله کانام ذکر کیا گیا۔(ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
مسلم ذبح شاہ المجوسی لبیت نارھم او الکافر لا لہتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالٰی ویکرہ للمسلم، کذا فی التاتارخانیۃ [3]۔ |
مسلمان نے مجوسی کی بکری ذبح کی ان کے آتشکدہ کے لئے،یا کسی کافر کی بکری ان کے معبودوں کے لئے ذبح کی تو کھائی جائے کیونکہ مسلمان نے الله تعالٰی کا نام لے کر ذبح کی ہے اور مسلمان کو یہ عمل مکروہ ہے تاتارخانیہ میں یونہی ہے۔(ت) |
اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے رسالے سبل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء میں ہے اور شیخ سدو کوئی بزرگ نہیں بلکہ ایك خبیث روح ہے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳:از قصبہ کلی ناگر تھانہ مادھوٹانڈہ پرگنہ پورنپور،ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد اکبر علی صاحب ۱۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے شیخ سدو کے نام سے مرغ وغیرہ ذبح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع