30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفسیر مدارك شریف میں ہے:
|
یفترون علی اﷲ الکذب فی نسبتہم ہذا التحریم الیہ،واکثرھم لایعقلون ان اﷲ تعالٰی لایحرم ذٰلك [1]۔ |
الله تعالٰی پر ان کے حرام کرنے کی نسبت میں افتراء باندھتے ہیں جبکہ ان کی اکثریت بے عقل ہے الله تعالٰی نے ان کو حرام نہیں کیا،(ت) |
مگر اس چھوڑدینے سے وہ ملك مالك سے بھی خارج نہیں ہوتا،اسی کی ملك پر باقی رہتاہے کہ بیل چھوڑنے والے چھوڑتے وقت نہ یہ کہتے کہ جو اسے پکڑلے اس کا مالك ہوجائے،نہ وہ ہر گز اس کا پکڑنا روا رکھتے ہیں،بلکہ ان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ یہ یونہی چھوٹا پھرے،تو جانور بدستور انھیں کا مملوك رہتاہے،فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
لو سیب دابۃ،وقال لاحاجۃ لی الیہا،ولم یقل ہی لمن اخذہا فاخذہا الانسان لا تکون لہ [2]۔ |
اگر کوئی جانور آزاد چھوڑ دیا گیا اور یہ نہ کہا جو پکڑے اس کا ہوگا تو کوئی انسان پکڑلے تو وہ اس کا مالك نہ بنے گا۔(ت) |
اس وجہ سے اس کاپکڑنا،ذبح کرنا،کھانا کچھ جائز نہیں کہ وہ ملك غیر ہے یہاں تك کہ اگر مالك اجازت دے دے بلاشبہ حلال ہوجائے،یااگر کسی شخص کا اس بیل چھوڑنے والے پر کچھ دین آتاہو مثلا اس نے کچھ مال اس کا چھینا یا چرایا یا سود یا رشوت میں لیا ہو اور اس سے وصول کی امید نہیں تو یہ شخص اپنے آتے میں اس بیل کو لے سکتاہے جبکہ اس کی قیمت اس کے مقدار حق سے زائد نہ ہو
|
وھی مسئلۃ الظفر بخلاف الجنس الحق المفتی الاٰن بجواز اخذہ کما فی ردالمحتار وغیرہ [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یہ مسئلہ اپنے حق کے خلاف جنس پر قابو پانے کا ہے جس پر آج کل فتوٰی ہے کہ قابو پاناجائز ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔والله تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۲۲: از اودے پور میواڑ مہارانا ہائی اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب ۱۸ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اس زمانہ میں بکرا جو شیخ سدو کے نام سے یا دوسرے کسی بزرگ کے نام سے موسوم کیا جائے،اور وہ بکرا الله کے نام کے ساتھ ذبح کیا جائے اس کا کھانا مسلمان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع