30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال اﷲ تعالٰی مَا جَعَلَ اللہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ" "[1]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:الله تعالٰی نے بحیرہ اور سائبہ نہیں بنائے۔ (ت) |
کافروں کا یہ اعتقاد تھا کہ کان چیر کر چھوڑ دیا یا بحار کردیا تو اس کا کھانا حرام ہے،قرآن عظیم نے اس کا رد فرمادیا،رہا ملك غیر کی وجہ سے حرام ہونا یہ معصوم وغیر معصوم میں عدم تفرقہ سے ناشی ہے۔کافرکہ نہ ذمی ہو نہ مستامن نہ مستامن منہ،یعنی نہ وہ اس کی امان میں ہو نہ یہ اس کی امان میں،اس سے صرف غدر حرام ہے،ہاں ایك اور راہ سے یہاں عدم جواز آسکتاہے،وہ یہ کہ یہ صورت اگر قانونا جرم ہو تو ایسا مباح جومسلمان کو معاذالله ذلت پر پیش کرے شرعا ممنوع ہوجاتاہے،والله تعالٰی اعلم۔
(۲)حرام شیئ جلنے کے بعد بھی حرام ہی رہے گی اور دوسری شیئ میں اگر ایسی مخلوط ہوگی کہ تمیز ناممکن ہے،تو اسے بھی حرام کردے گی،
|
اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
حلال اور حرام مجتمع ہوں تو حرام کو غلبہ ہوتاہے،والله تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۲۱: از ملك آسام مقام نوعلی گاؤں ضلع شیپ ساگر مرسلہ پیر ملا مولوی سید عبدالمجید صاحب ۱۶ رمضان ۱۳۱۳ھ
علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ایك بیل غیر الله کے نام پر چھوڑا ہوا ہے آیا اس جانور کو کھانا جائز ہے یانہیں؟ اس مسئلہ میں کہ یہاں پر بہت اختلاف ہے اس کو معہ دلیل تحریر فرمائیں،
الجواب:
اس چھوڑدینے سے وہ جانور حرام نہیں ہوجاتا۔
|
قال اﷲ تعالٰی مَا جَعَلَ اللہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ وَّلَا وَصِیۡلَۃٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ وَ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾"[3]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:بحیرہ،سائبہ،وصیلہ اور حام الله تعالٰی نے نہیں بنائے لیکن کافروں نے الله تعالٰی پر جھوٹ افتراء باندھا جبکہ ان کی اکثریت بے عقل ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع