30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قول،اور قرآن مجید کے خلاف ہے۔اور آیہ مااہل بہ لغیر اﷲ اس جانور کے لئے ہے جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا جائے، چھوڑے ہوئے جانور سے اسے کوئی تعلق نہیں نہ کہ مٹھائی تك پہنچے،یہ تعصب وہابیوں کے جاہلانہ خیال ہیں کہ"جانداریا بے جان ذبیحہ ہو یا غیر،جس چیز کو غیر خدا کی طرف منسوب کرکے پکاریں گے حرام ہوجائیں گی"ایسا ہو تو ان کی عورتیں بھی ان پر حرام ہوں کہ وہ بھی انھیں کی عورتیں کہہ کر پکاری جاتی ہیں الله تعالٰی کا نام ان پر نہیں لیا جاتا،ایسے بیہودہ خیالوں سے بچنا لازم ہے۔ہاں بت کے چڑھاوے کی مٹھائی پر شاد مسلمانوں کو نہ لینا چاہئے کہ کافر اسے صدقہ کے طور پر بانٹتے ہیں،وہ لینا ذلت بھی ہے اور معاذالله جو چیز انھوں نے تعظیم بت کے لئے بانٹی اس کا ان کے موافق مراد استعمال بھی ہے بخلاف چھوڑے ہوئے جانور کے کہ اس کا کھانا کافروں کے خلاف مراد اور ان کی ذلت ہے،اس میں حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ فتنہ نہ ہو،ورنہ فتنہ سے بچنا لازم ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی " الْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِۚ"[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:فتنہ قتل سے شدید تر ہے۔والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۱۱۷: مسئولہ مسلماناں کاٹھیاواڑ جام جودھپور معرفت شیخ عبدالستار پوربند کاٹھیاواڑ ۱۵ جمادی الاولٰی ۱۳۳۳ھ
اس ملك میں رواج ہے کہ اہل ہنود بکریوں کے چرواہے مندروں پر بکرا چڑھانے کے واسطے لے جاتے ہیں اور اس کے ذبح کرنے کے واسطے مسلمان قصاب کو بلاتے ہیں اور اکثر قصاب نہیں ہوتے تو پیش امام کو لے جاتے ہیں اور بعدذبح کے وہ گوشت انھیں لوگوں پر تقسیم کیا جاتاہے اس گوشت کالینا جائز ہے یانہیں؟ اور ذبح کرنے کے واسطے جانا چاہئے یانہیں؟ اور قصاب وہاں سے گوشت لے کر فروخت کرتے ہیں ان سے خرید کر کھانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
ذبح میں ذابح کی نیت شرط معتبر ہے،اگر کافر اپنے معبودوں کے لئے ذبح کرائے اور مسلمان الله عزوجل کے لئے اس کانام لے کر ذبح کرے جانور حلال ہوجائے گا مگریہ فعل مسلمان کے لئے مکروہ ہے،اور اس گوشت کا اس سے لینا بھی نہ چاہئے کہ اس میں کافر کے زعم میں اس کے مقصد باطل کو پورا کرنا ہے اور یہ گوشت گویا اس کی طرف سے تصدق لینا ہے۔
|
والید العلیا خیر من الید السفلٰی، |
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔تو یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع