30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلاصہ میں ہے:
|
فی النوازل لو ان جدیا غذی بلبن الخنزیر فلا باس باکلہ،فعل ھذا قالوا لاباس باکل الدجاج الذی یخلط ولا یتغیر لحمہ،والذی روی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال تحبس الدجاجۃ ثلثۃ ایام کان للتنزیہ[1] (باختصار)۔ |
نوازل میں ہے جو بچہ خنزیر کے دودھ کی خوراك سے پرورش پایا اس کو کھانے میں حرج نہیں ہے اسی لئے فقہاء نے فرمایا جو مرغ گندگی کھائے اور اس کا گوشت متغیر نہ ہو تو کھانے میں حرج نہیں ہے،او ر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد کہ مرغی کو تین دن قید رکھ کر ذبح کیا جائے،یہ ارشاد تنزیہ کے طور پر ہے۔(باختصار)(ت) |
اسی سے تکملہ لسان میں فرمایا اسی طرح بقیہ کتب میں مذکور ہے،ہندیہ کی کتاب الکراہیۃ میں قنیہ سے ہے:
|
ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالٰی جدی او حمل یرضع بلبن الاتان یحل اکلہ ویکرہ [2]۔ |
امام محمد رحمہ الله تعالٰی نے فرمایابکری یاگائے کا بچہ گدھی کے دودھ سے پرورش پائے اس کا کھانا حلال ہے اور مکروہ ہے۔ (ت) |
اسی قنیہ میں بعض علماء سے قول ثانی نقل کیا،وہی ظاہرا کلام فتاوی کبرٰی وخزانۃ المفتین کا مفاد،اور امام اعبدالله بن مبارك رحمۃ الله تعالٰی علیہ کے ارشاد سے مستفاد،ردالمحتارمیں ہے:
|
فی شرح الوہبانیۃ عن القنیۃ راقما انہ یحل اذا ذبح بعد ایام والا لا [3]۔ |
شرح وہبانیہ میں قنیہ سے نقل کیا کہ اگر چند روز کے بعد ذبح کیا تو حلال ہے ورنہ نہیں۔(ت) |
سیدا بو السعود ازہری فتح الله المعین حاشیہ کنزمیں فرماتے ہیں:
|
الجدی اذا ربی بلبن الا تان،قال ابن المبارك یکرہ اکلہ قال واخبرنی رجل عن الحسن،قال اذا ربی الجدی بلبن الخنزیر لاباس |
بھیڑ کا بچہ گدھی کے دودھ سے پرورش پائے تو ابن مبارك نے فرمایا اس کا کھانا مکروہ ہے مجھے یك شخص نے حسن سے خبردی انھوں نے کہا بھیڑ کا بچہ اگر خنزیر کے دودھ سے پرورش پائے توحرج |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع