30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولابالخنثی لان لحمہا لاینضج،شرح وھبانیۃ [1]۔ |
خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتا نہیں،شرح وہبانیہ۔(ت) |
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
لاتجوز التضحیۃ بالشاۃ الخنثٰی لان لحمہا لاینضج، کذا فی القنیۃ[2]،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
خنثٰی بکرے کی قربانی جائزنہیں کیونکہ اس کا گوشت پکتا نہیں، قنیہ میں اسی طرح ہے۔والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۱۱۳: از کلکتہ دھرم تلا اسٹریٹ نمبر ۱۶۲ مرسلہ حافظ عبدالرحمان صاحب ۳ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بکری بچہ جنی،اور بعد جننے کے مرگئی،اب وہ بچہ ایك کتیا کا دودھ پی کر سیانا ہوا، پس وہ بچہ حلال ہے یاحرام؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر ایسا سیانا ہوگیا کہ دودھ چھٹے کچھ مدت گزری،جب تو بالاتفاق بلاکراہت حلال ہے۔یونہی دودھ پیتے کو چند روز اس دودھ سے جدا رکھ کر حلال جانور کا دودھ یا چارا دیا،اور اس کے بعد ذبح کیا جب بھی بالاتفاق بے کراہت حلال ہے۔اور اگر اسی حالت میں ذبح کرلیا تو اس کا کھانا مکروہ ہے۔اس صورت میں کراہت بھی محل نزاع نہیں،ہاں اس میں اختلاف ہے کہ یہ کراہت تنزیہی ہے یعنی کھانا بہترنہیں،اور کھالے تو گناہ نہیں،یا تحریمی یعنی کھانا ناجائز وگناہ ہے۔عامہ کتب میں معتمدہ مذہب مثل نوازل وخلاصہ وخانیہ وذخیرہ وبزازیہ وتبیین الحقائق وتکملہ لسان الحکام للعلامۃ ابراہیم حلبی ودرمختار وغیرہا میں قول اول ہی پر جزم فرمایا اور خود محرر مذہب سیدنا امام محمدرحمہ الله تعالٰی علیہ سے اس پر نص صریح آیا،اور شك نہیں کہ وہی اقوٰی من حیث الدلیل ہے۔درمختارمیں ہے:
|
حل اکل جدی غذی بلبن خنزیر لان لحمہ لایتغیر وما غذی بہ یصیر مستہلکا لایبقی لہ اثر [3]۔ |
بھیڑ کے جس بچے نے خنزیر کا دودھ بطور خوراك پیا تو اسے کھانے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا گوشت متغیر نہ ہوا اور جو خوراك دی گئی وہ ہلاك ہوگئی اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا،(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع