30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایعطی اجر الجزار منہا لانہ کبیع [1]۔ |
قربانی کا کوئی حصہ قصاب کی اجرت میں نہ دے کیونکہ یہ معاوضہ سوداکاری کے معنی میں ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
لانہ انما یعطی الجزار بمقابلۃ جزرہ [2]۔ |
کیونکہ یہ قصاب کے عمل کے بدلے میں دے گا۔(ت) |
خانیہ میں ہے:
|
وضع صاحب الشاۃ یدہ مع یدالقصاب فی المذبح واعانہ علی الذبح،سمی کل وجوبا [3] الخ(ملخصا) |
بکری والے نے ذبح میں قصاب کے ساتھ اپنا ہاتھ شریك کیا تو دونوں پر بسم الله پڑھنا وجب ہے۔الخ(ملخصا)۔(ت) |
بزازیہ میں ہے:
|
لاریب ان القصاب یذبح للربح ولو علم انہ نجس لا یذبح،فیلزم علی ھذا الجاہل ان لایاکل ماذبحہ القصاب [4]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بے شك قصاب نفع حاصل کرنے کے لئے ذبح کرتاہے اگر اسے معلوم ہو کہ یہ نجس ہے تو ذبح نہ کرے گا،توایسے جاہل پر لازم آتاہے کہ قصاب کا ذبیحہ نہ کھائے،والله سبحانہ و تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۱۲:از اوجین علاقہ گوالیار مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی محمد یعقوب علی خاں صاحب ۱۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
خنثٰی جانور کا ذبیحہ جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
خنثٰی کہ نر ومادہ دونوں کی علامتیں رکھتاہو،دونوں سے یکساں پیشاب آتاہو،کوئی وجہ ترجیح نہ رکھتاہو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں کہ اس کا گوشت کسی طرح پکائے نہیں پکتا،ویسے ذبح سے حلال ہوجائے گا،اگر کوئی کچا گوشت کھائے،کھائے،درمختارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع