30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اما الدیوان الذی لایعبؤاﷲ بہ شیئا فظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہ،من صوم یوم ترکہ،اوصلوٰۃ ترکہا،فان اﷲ تعالٰی یغفر ذٰلك ان شاء ویتجاوز [1]۔ |
حضو رصلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بناء پر کہ گناہوں کا دفتر الله تعالٰی کے ہاں اس کی حیثیت نہیں ہے تو بندے کا اپنے نفس پر ظلم اس کے اور اس کے رب کے درمیان معاملہ ہے کسی دن کا روزہ یا کوئی نماز ترك کی ہو تو الله تعالٰی چاہے تو اسے بخش دے اور درگزر فرمادے۔(ت) |
ضیافت بھی جائز ضرورہے اس سے بچنے نہ بچنے میں عمل سلف مختلف ہے کما فصلہ الامام حجۃالاسلام فی الاحیاء (جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی علیہ الرحمۃ نے احیاء العلوم میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ت)اسکا بیان ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰: از مدرسہ مڈھاوی ڈاکخانہ کوراولی ضلع میں پوری مرسلہ محمد بختیار صاحب مدرس ۱۵ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
قصاب پیشہ شخص جو ذبح کرے اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یانہیں؟
الجواب:
درست ہے جبکہ تکبیر کے ساتھ ذبح کرے،فتاوٰی بزازیہ میں ہے:
|
یلزم علی ھذا الجاھل ان لا یاکل ماذبح القصاب [2]۔و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ایسے جاہل کو لازما آتاہے کہ وہ قصاب کے کسی ذبیحہ کو نہ کھائے،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۱۱: از کانپور مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ قصاب کا ذبیحہ جائزہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
ذبح قصاب وغیرہ سب کا ایك حکم ہے۔مسلمان یا کتابی،عاقل ہونا چاہئے کہ ذبح جانتاہو اور عمدًا تسمیہ ترك نہ کرے،کسی قوم یا پیشہ کی تخصیص محض جہالت ہے،درمختارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع