30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)تین حصے کرناصرف استحبابی امرہے کچھ ضروری نہیں چاہے سب اپنے صرف میں کرلےی یا سب عزیزوں قریبوں کو دے دے،یا سب مساکین کو بانٹ دیں،یہاں اگر مسلمان مسکین نہ ملے تو کافر کو اصلا نہ دے کہ یہ کفار ذمی نہیں،تو ان کو دینا قربانی ہو خواہ صدقہ،اصلا کچھ ثواب نہیں رکھتا،درمختارمیں ہے:
|
اماا لحربی ولو مستامنا فجمیع الصدقات لایجوز لہ اتفاقا،بحر عن الخانیۃ وغیرہا [1]۔ |
حربی اگر مستامن بھی ہو تو اس کو کوئی بھی صدقہ دینا بالاتفاق ناجائز ہے۔بحر نے خانیہ وغیرہا سے نقل کیا۔(ت) |
بحرالرائق میں معراج الدرایہ شرح ہدایہ سے ہے:
|
صلتہ لاتکون براشرعا،ولذا لم یجز التطوع الیہ فلم یقع قربۃ [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس سے صلہ شرعا نیکی نہیں اسی لئے اس کو نفلی صدقہ بھی جائز نہیں لہذا عبادت نہ بنے گا والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۱۰۸: از سرنیاضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
زید نماز روزے سے بالکل بے خبر ہے اور ذبح کے وقت کلی بھی نہیں کرتا،تو اس کاذبح کیساہے؟
الجواب:
اگر مسلمان ہے اور ذبح کرنا جانتاہے اورتکبیر کہے تو ذبح ہوجائے گا۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹: از گوری ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالجبار صاحب یکم شعبان ۱۳۳۶ھ
ایك شخص مسلمان کلمہ گو اپنی بدقسمتی سے ادائے نماز میں غفلت کرتاہے،پس اس صورت میں ذبیحہ و ضیافت اس کا مسلمانوں کو کھانا ونماز جنازہ،دفن مقبرہ مومنین میں جائز ہے یانہیں؟ اگر نہیں تو کس دلیل سے،ذبیحہ اہل کتاب وضیافت مسلمانوں کو جائز کیا گیا؟
الجواب:
ضرور اس کا ذبیحہ جائز،اور اس کے جنازہ کی نماز،اور اسے اسلامی طور پر دفن کرنا مسلمانوں پر فرض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع