30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرایا جاتاہے جس کا گوشت گھر میں پکتا ہے کھاناکیساہے؟
الجواب:
وہابی رافضی قادیانی وغیرہم جن جن کی گمراہی حد کفر تك ہے ان کا ذبیحہ مردارہے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۹۹: از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضا خاں صاحب رضوی ۲۸ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ وہابی یا رافضی کا ذبیحہ گائے یا بکری یا مرغی کا جائز ہے یا نہیں؟ اور وہابیہ اور رافضی کے یہاں کا گوشت پکا ہوا بطور دعوت کھانا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
وہابیہ اور رافضی کا ذبیحہ مردا رہے اور ان کے یہاں کا گوشت کھانا حرام ہے۔فتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے: احکامہم احکام المرتدین[1] (ان کے احکام مرتدین کے احکام ہیں۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰ و ۱۰۱: از ڈونگر پور ملك میواڑ راجپوتانہ مکان جمعدار سمندرخاں مسئولہ عبدالرؤف خاں ۱۵ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)بوہروں کے یہاں کا ذبیحہ کیا ہوا گوشت ان کے یہاں کا پکا ہوا کھانا اہلسنت وجماعت کھاسکتے ہیں یانہیں؟
(۲)اور کوئی شخص ذبیحہ کرتاہو اور اس سے اپنی اور اپنے بچوں کی گزر اوقات کرتاہو وہ خدا کے یہاں مواخذہ حشرمیں تونہ ہوگا؟ یا نامہ اعمال میں اس کے کچھ لکھا جائے گا؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱)بوہرے کہ اسمعیلی رافضی ہیں ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردارہے۔اور ان کے یہاں کا گوشت پکا ہوا بھی حرام ہے،مگریہ کہ مسلمان نے ذبح کیا اور اس وقت سے اس وقت تك مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوا ہو،گوشت کے علاوہ باقی کھانوں پراگر چہ قطعی حکم حرمت مگر بہرحال احتراز ہی مناسب ہے۔
(۲)ذبح کا پیشہ شرعا ممنوع نہیں،نہ اس پر کچھ مواخذہ ہے اگر چہ گائے ذبح کرنے کا پیشہ ہو،وہ جو حدیث لوگوں نے دربارہ ذابح بقروقاطع شجر بنارکھی ہے محض باطل وموضوع ہے۔والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع