30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی حل ذبیحتہم اختلاف العلماء کما بیناہ فالاخذ بجانب الحرمۃ اولی عند عدم الضرورۃ [1]۔ |
ذبیحہ کے حلال ہونے میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ضرورت نہ ہو تو حرمت کی جانب کو ترجیح ہے۔(ت) |
یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ ذبح بطور ذبح کریں،اور وقت ذبح خالص الله عزوجل کا نام پاك لیں،مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام شریك نہ کریں اگر چہ دل میں مسیح ہی کو خدا جانیں،بالجملہ نہ قصدا تکبیر چھوڑیں نہ تکبیر میں شرك ظاہر کریں ورنہ جو ذبیحہ ان شرائط سے خالی ہو وہ مسلمان کا بھی حرام ومردار ہوتاہے چہ جائیکہ کتابی، ردالمحتارمیں ہے:
|
لاتحل ذبیحۃ من تعمد ترك التسمیۃ مسلما او کتابیا نص القراٰن [2]۔ |
قصدا بسم الله کو ترك کرنے والے کا ذبیحہ حلال نہیں ہے وہ مسلم ہو یا کتابی قرآن کی نص کی بناء پر۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
شرط کون الذابح مسلما اوکتابیا ذمیا اوحربیا الا اذا سمع منہ عندالذبح ذکر المسیح [3]۔ |
ذبح کرنے والے کا مسلمان یا کتابی ذمی یا حربی ہونا شرط ہے۔ہاں اگر ذبح کے وقت ان سے مسیح کانام سنا جائے تو ناجائز ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
ولوسمع منہ ذکر اﷲ تعالٰی لکنہ عنی بالمسیح قالوا یوکل الا اذا نص فقال باسم اﷲ الذی وہوثالث ثلثۃ، ہندیۃ [4]۔ |
اگر عیسائی سے الله تعالٰی کا نام سنا لیکن اس سے مراد اس نے مسیح کا لیا تو فقہاء نے فرمایا کھالیا جائے ہاں اگر صراحۃ"باسم الله تعالٰی جو کہ تین کا تیسرا ہے"کہیں تو نہ کھائیں، ہندیہ (ت) |
نصارٰی زمانہ کاحال معلوم ہے کہ نہ وہ تکبیر کہیں نہ ذبح کے طور پر ذبح کریں،مرغ وپرند کا تو گلا گھونٹتے ہیں،اور بھیڑ بکری کو اگر چہ ذبح کریں،رگیں نہیں کاٹتے،فقیر نے بھی اسے مشاہدہ کیا ہے۔
ذیقعدہ ۱۲۹۵ھ میں کپتان کی ملك سے سمور کا ایك مینڈہا جہاز میں دیکھا گیا جسے وہ چالیس روپے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع