30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوٰی اسلام کرتے ہیں:
خاص ایسے لوگوں کے کفر میں ہر گز شك نہ کیا جائے کہ جو ان کے عقیدہ پر مطلع ہوکر پھر سمجھ بوجھ کر ان کے کفر میں شك کرے وہ خود کافر ہوجاتاہے۔درمختارمیں ہے:
|
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر[1]اھ واما ارتدادہم فہو الصحیح الثابت المنصوص علیہ کما اوضحناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی السیر من فتاوٰینا وفی رسالتنا" المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ"۔ |
جو ان کے کفر وعذاب میں شك کرے وہ کافر ہے اھ لیکن ان کاا رتداد توصحیح ثابت منصوص علیہ ہے جیسا کہ ہم نے الله تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی کے باب السیر میں واضح کر دیا ہے نیز اس اپنے رسالہ"المقالۃ المسفرۃ عن احکام البدعۃ المکفرۃ" میں بیان کیا ہے۔(ت) |
اس قسم کے ہر بدمذہب کا ذبیحہ مردار وحرام،ان کے ساتھ نکاح حرام وباطل ومحض زنا،ان کے ساتھ کھانا پینا بیٹھنا اٹھنا،ملنا جلنا، کوئی برتاؤ مسلمان کا ساکرنا ہر گز ہرگز کسی طرح جائز نہیں،ہاں جو مذہب دین اسلام کی ضروری باتوں سے کسی بات میں شك نہ کرتاہو،صرف ان سے نیچے درجہ کے عقیدوں میں مخالف ہوں،جیسے رافضیوں میں تفضیلی،یا وہابیوں میں اسحاقی وغیرہم وہ اگرچہ گمراہ ہے کافر نہیں اس کے ہاتھ کاذبیحہ حلال ہے،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۵: از گونڈہ ملك اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ
یہ جو اکثر کتب دینیہ میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ درست ہے تو آج کل یہود ونصارٰی جو ہیں ان کاذبیحہ درست ہے یانہیں؟
الجواب:
شك نہیں کہ نصارٰی الوہیت وابنیت عبدالله وابن امتہ،سیدنا مسیح ابن مریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی صاف تصریح کرتے ہیں جو نصارٰی ایسے ہیں اور یوہیں وہ یہود کہ ابنیت عبدالله عزیر علیہ الصلوٰۃ والسلام مانیں ان کا ذبیحہ حلال ہونے میں ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے،جمہورمشائخ جانب حرمت گئے اور کہا گیا کہ اسی پر فتوٰی ہے۔اور بکثرت محققین تحقیق جواز فرماتے ہیں کہ یہی ظاہر الروایۃ اوریہی اقوی من حیث الدلیل ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع