30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھریہ بھی اس حالت میں ہے کہ وہ ذبح بطور ذبح کریں ورنہ جانور کو گلا گھونٹ کرمارڈالا،یا گلے میں ایك طرف چھری بھونك دی رگیں نہ کاٹیں جیسا کہ فقیر نے جہاز میں بچشم خود معائنہ کیا تو اس کے حرام قطعی ہونے میں اصلا کلام نہیں کہ ایسا مقتول تو مسلمان کے ہاتھ کا بھی مردار ہے نہ کہ کافر کا،اور جو شخص جانور کو دبائے،یا ہاتھ پاؤں پکڑے ایسے مددگار پر تکبیر ضرور نہیں،نہ اس کے ہندو وغیرہ ہونے سے کچھ حرج کہ وہ ذابح نہیں،ہاں جو نفس فعل ذبح میں مدد دے یعنی ذابح کا ہاتھ مثلا کمزور تھا اس نے بھی اس کے ساتھ چھری پر ہاتھ رکھ کر پھیرا کہ دونوں کے فعل سے ذبح واقع ہوا،تو ایسی حالت میں دونوں پر تکبیر لازم ہے۔ان میں جو قصدا تکبیر نہ کہے گا یا حرام الذبیحۃ مثلا ہندو،مجوسی،مرتد ہوگا تو جانور حرام مردار ہوجائے گا، درمختارمیں ہے: تشترط التسمیۃ من الذابح[1](ذابح کا تسمیہ پڑھنا شرط ہے۔ت)اسی میں ہے:
|
ارادالتضحیۃ فوضع یدہ مع یدالقصاب فی الذبح و اعانہ علی الذبح سمی کل وجوبا فلو ترکہا احدہما او ظن ان تسمیۃ احد ہما تکفی حرمت [2]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
قربانی کے ارادے سے اپنا ہاتھ قصاب کے ہا تھ کے ساتھ ذبح کرنے میں شریك کیا اورذبح میں مدد کی تو دونوں پر بسم الله پڑھنا واجب ہے اگر ایك نے پڑھنا ترك کیا یا یہ خیال کیا کہ ایك کا پڑھنا کافی ہے تو ذبیحہ حرام ہوگا والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۹۴: از گلکٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب ۷ شعبان معظم ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ کے یہاں کا ذبح کراکھانا،دیگر جس کا عقیدہ درست نہ ہو اس کا ذبح کھانا کیسا ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب:
آج کل کے رافضی تبرائی علی العموم کا فر مرتد ہیں،شاید ان میں گنتی کے ایسے نکلیں جو اسلام سے کچھ حصہ رکھتے ہوں،ان کا عام عقیدہ یہ ہے کہ یہ قرآن شریف جو بحمدالله تعالٰی ہمارے ہاتھو ں میں موجود ہے یہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے بعد پورا نہ رہا،اس میں سے کچھ پارے یا سورتیں یاآیتیں صحابہ کرام اور اہلسنت نے معاذا لله کم کردیں،اور یہ بھی ان کے چھوٹے بڑے سب مانتے ہیں کہ حضرت مولا علی ودیگر ائمہ اطہار کرم الله تعالٰی وجوہہم اگلے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے افضل تھے، یہ دونوں عقیدے خالص کفر ہیں جو شخص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع