30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پر؟ اور سوائے ذابح کے اور نے تکبیرنہ کہی تو وہ جانور حلال ہے یاحرام؟بسند عبارت کتب بیان فرمائیں بینوا توجروا
الجواب:
مسلمان وکتابی کا ذبیحہ حلال ہے اگر چہ عورت یا عنین ہو اور ان کے سوا مشرك مجوسی،مرتد کسی کا ذبیحہ اصلا حلال نہیں اگرچہ تکبیر کہہ کر ذبح کریں،درمختارمیں ہے:
|
شرط کون الذابح مسلما اوکتابیا ولوامرأۃ لاذبیحۃ غیر کتابی من وثنی و مجوسی و مرتد[1] اھ ملخصًا۔ |
ذبخ کرنے والے کا مسلمان یا کتابی ہونا اگر چہ عورت ہو،شرط ہے،کافر غیر کتابی مثلا بت پرست،مجوسی اور مرتد نہ ہو،اھ ملخصًا۔(ت) |
قوم بوہرہ میں جو شخص صرف بدعت رفض وغیرہ رکھتاہو اور اس کے ساتھ ضروریات دین کا منکر نہ ہو تو اس کا بھی ذبیحہ حلال، کہ اگرچہ بدعتی مذہب ہے مگر اسلام رکھتاہے،اور اگر ضروریات دین سے کسی امر کا انکار کرے گو دعوٰی اسلام رکھتا اور کلمہ طیبہ پڑھتا ہو،جیسے آج کل اکثر روافض زمانہ کا حال ہے تو کافر مرتد ہے اور اس کا ذبیحہ حرام مطلقًا کما حققناہ فی السیر من فتاوٰنا بتوفیق الله سبحٰنہ تعالٰی(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی کے باب سیر میں اس کی تحقیق کی ہے۔بتوفیق الله تعالٰی۔ت) نصارٰی زمانہ کہ علی الاعلان الوہیت وابنیت بندہ خدا وزادہ کنیز خدا سیدنا مسیح عیسی بن مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام کے قائل ہیں،ان کے بارہ میں مختلف بہت مشائخ کرام ان کے ذبیحہ کو حرام فرماتے ہیں یہاں تك کہ کہا گیا اسی پر فتوٰی ہے،مگر ظاہر الروایہ اطلاق حل ہے والتحقیق فی سیرفتاوٰنا(اور ہمارے فتاوٰی کے باب سیر میں اس کی تحقیق ہے۔ت)بہرحال اس قدر ضروری ہے کہ مسلمان کو ان کے ذبیحہ سے احتراز چاہئے،بلکہ مجمع الانہر میں ہے:
|
النصارٰی فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحم اﷲ تعالٰی،وعدم الضرورۃ متحقق،والاحتیاط واجب لان فی حل ذبیحتہم اختلاف العلماء کما بیناہ فالا خذ بجانب الحرمۃ اولی [2]۔ |
ہمارے زمانے میں نصرانی عیسٰی علیہ السلام کی ابنیت کی تصریح کرتے ہیں الله تعالٰی ان کو قبیح کرے جبکہ عدم ضرورت بھی متحقق ہے اور واجب ہے کیونکہ ان کے ذبیحہ میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے لہذاحرام ہونے کا پہلو اولٰی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع