30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہر حال کھانا اس کا بیشك ناجائز ہے کما ھوالمذہب فی البول(جیسا کہ پیشاب کے بارے میں ان کا مذہب ہے۔ت)باوجود اس کے یہاں شمار میں نہ آیا،یونہی اخلاط سے بلغم ہے کہ جب براہ بینی مند فع ہو،جیسے بھیڑ وغیرہ میں مشاہد ہے۔اسے عربی میں مخاط اور فارسی میں آب بیتی کہتے ہیں،(۱۵)اس کا کھانا بھی یقینا ناجائز،صرح بہ فی العقود الدریۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ(یہی تصریح عقود الدریۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ میں ہے۔ت)یہ بھی یہاں غیر معدود اور منجملہ دماء،(۱۶)وہ خون بھی ہے جو رحم میں نطفہ سے بنتاہے منجمد ہوکر علقہ نام رکھا جاتاہے۔وہ بھی قطعا حرام۔نہایہ وتبیین الحقائق وردالمحتار وغیرہامیں ہے:
|
العلقۃ والمضغۃ نجسان کالمنی [1]۔ |
علقہ(منجمد خون)اور مضغہ(ابتداء تخلیق کا خون اور لوتھڑا)منی کی طرح ناپاك ہے۔(ت) |
یہ بھی نہ گنا گیا،تو واضح ہوگیا کہ عامہ کتب میں لفظ سبع(سات)صرف باتباع حدیث ہے۔جس طرح کتب کثیرہ میں شاۃ (بکری)کی قید،کما مرعن تنویر الابصار ومغنی المستفتی ومثلہ فی غیرھما(جیسا کہ تنویر الابصاراور مغنی المستفتٰی سے گزرا،اور اس کی مثل ان کے غیر میں ہے۔ت)حالانکہ حکم صرف بکری سے خاص نہیں،یقینا سب جانوروں کا یہی حکم ہے، حاشیہ طحطاوی میں ہے:
|
قولہ من الشاۃ ذکر الشاۃ اتفاقی لان الحکم لا یختلف فی غیرہا من الماکولات [2]۔ |
بکری کاذکر اتفاقی ہے کیونکہ دوسرے جانورں کے ماکولات میں فرق نہیں(ت) |
تو جیسے لفظ شاۃ محض باتباع حدیث واقع ہوا،اور اس کا مفہوم مراد نہیں،یونہی لفظ سبع اور اہل علم پر مستتر نہیں کہ استدلال بالفحوٰی یا اجرائے علت منصوصہ خاصہ مجتہد نہیں،کما نص علیہ العلامۃ الطحطاوی تبعا لمن تقدمہ من الاعلام(جیسا کہ اس پر علامہ طحطاوی نے اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کی اتباعی میں نص کی ہے۔ت)اور یہاں خود امام مذہب رضی الله تعالٰی عنہ نے اشیاء ستہ کی علت کراہت پر نص فرمایا کہ خباثت ہے۔اب فقیر متوکلا علی الله تعالٰی کوئی محل شك نہیں جانتا کہ دُبر یعنی پاخانے کا مقام،کرش یعنی اوجھڑی،امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکم کراہت میں داخل ہیں،بیشك دُبرفرج وذکر سے اور کرکش و امعاء مثانہ سے اگر خباثت میں زائد نہیں تو کسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع