30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ صرف باتباع نظم حدیث ونص امام ان پر اقتصار واقع ہوا،اور خود ان علمائے زائدین نے بھی قصد استیعاب نہ فرمایا،یہ امر انھیں عبارات مذکورہ سے ظاہر،اور اس پر دوسری دلیل واضح یہ کہ جگر وطحال وگوشت کے خون گنے اور(۱۳)خون قلب چھوڑ گئے حالانکہ وہ قطعا ان کے مثل ہے۔یہاں تك کہ عتابیہ وخزانۃ وقنیہ وغیرہامیں اس کی نجاست پر جزم کیا،اور اسی طرح امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں فرمایا،اگرچہ روضہ ناطفی ومراقی الفلاح ودرمختار وردالمحتار و غٖیرہا اسفار میں طہارت کو مختار رکھا،اور ظاہر ہے کہ نجاست مثبت حرمت ہے اور طہارت مفید حلت نہیں،حلیہ میں ہے:
|
فی القنیۃ دم قلب الشاۃ نجس والیہ مال کلام صاحب الہدایۃ فی التجنیس وفی خزانۃ الفتاوٰی دم القلب نجس ودم الکبد والطحال لا [1]۔ |
قنیہ میں ہے بکری کے دل کا خون نجس ہے۔تجنیس میں صاحب ہدایہ کا میلان اسی طرف ہے۔اور خزانۃ الفتاوٰی میں ہے کہ دل کا خون نجس ہے تلی اور جگر کا خون نجس نہیں ہے۔(ت) |
رحمانیہ میں ہے:
|
فی العتابیۃ دم القلب نجس،ودم الکبد والطحال لا [2]۔ |
عتابیہ میں ہے دل کا خون نجس ہے۔جگر اور تلی کا خون نجس نہیں۔(ت) |
اورنیز عدم حصر پر ایك اور دلیل قاطع یہ ہے کہ عامہ کتب میں دم مسفوح،اور ان کتابوں میں دم لحم وکبد وطحال کو شمار کیا،تو اس سے واضح کہ کلام اعضاء سے اخلاط تك متجاوز ہوا،اور بیشك اخلاط سے(۱۴)مرہ بھی ہے یعنی وہ زرد پانی کہ پتہ میں ہوتا ہے جسے صفر کہتے ہیں،اور ہمارے علماء کتاب الطہارۃ میں تصریح فرماتے ہیں کہ اس کا حکم مثل پیشاب کے ہے،بلکہ بعض نے تو مثل خون کے ٹھہرایا،درمختار میں ہے:مرارۃ فی حیوان کبولہ [3](حیوان کا پتہ پیشاب کی مانند ہے۔ت)حلیہ میں ہے:
|
قیل مرارۃ الشارۃ کالدم وقیل کبولہا خفیفۃ عند ھما، طاہرۃ عند محمد [4]۔ |
بعض نے کہا ہے پتہ جانور کا خون کی طرح ہے۔بعض نے کہا پیشاب کی طرح ہے۔شیخین کے نزدیك نجاست خفیفہ ہے۔ امام محمد رحمہ الله تعالٰی کے نزدیك پاك ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع