30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
البتہ مسلمان کے لئے اس صورت میں کراہت لکھتے ہیں،ہندیہ میں عبارت مذکورہ کے بعد ہے:ویکرہ للمسلم [1](مسلمان کے لئے کراہت ہے۔ت)ظاہر ہے کہ مسلمان کو ایسا فعل کرنا نہ تھا کہ اس میں بظاہر گویا اس کافر کا کام پورا کرنا اور اس کے زعم میں اس کے قصد مذموم کا آلہ بننا ہے،اگر چہ حقیقت امر بالکل اس کے مباین ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)بالجملہ اس مسئلہ میں حق یہ ہے کہ یہاں صرف وقت ذبح قول ونیت ذابح کااعتبار ہے۔اگر ذابح مسلم نے الله ہی کے لئے ذبح کیا اور وقت ذبح الله ہی کا نام لیا تو ذبیحہ قطعا حلال۔اگر چہ مالك نے کسی کے نام پر مشہور کررکھا ہو۔
|
قال اﷲتعالٰی " وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ"[2] ۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:تمھیں کیا ہوا کہ تم الله تعالٰی کے نام پر ذبیحہ کو نہیں کھاتے۔(ت) |
یوں ہی کتابی کا ذبیحہ،اگر وقت ذبح خالص نام خدالے۔
|
قال تعالٰی " وَطَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ ۪ "[3]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
الله تعالی نے فرمایا:اہل کتاب کا طعام تمھارے لئے حلال ہے،والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۸۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ میں کہ کھال مذبوح حلال مثل گائے،بھینس،بکری،مرغ وغیرہ کے حلال ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
مذبوح حلال جانور کی کھال بیشك حلال ہے۔شرعا اس کا کھانا ممنوع نہیں اگر چہ گائے،بھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔
|
فی الدرالمختار اذا ماذکیت شاۃ فکلہا * سوی سبع ففیہن الوبال،فحاء ثم خاء ثم غین *ودال ثم میمان وذال [4] انتہی فالحاء الحیاء |
درمختارمیں ہے جب بکری ذبح کی گئی تو سات اجزاء جن میں وبال ہے کے ماسوا کو کھاؤ،ساتھ یہ ہیں:ح،پھرخ،پھر غ،اور د،پھر دو میم،اور ذ انتہی حا حیاء کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع