30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاہتے ہیں،اس نے اس ذبح سے اسی نوع کا تقرب غیر خدا کی طرف چاہا،تو بھی حرمت ذبیحہ میں کلام نہیں،اگر چہ اس پر زبان سے خالص تکبیر ہی کہی ہو کہ جب اس نے غیر خدا کو معبود قرار دیا یا اس ذبح سے اس کی عبادت کا قصد کیا مرتد ہوگیا اور مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں،مگر نازلہ مسئولہ سائل ان صورتوں سے بری ہے کہ یہ تو یقینا معلوم کہ کوئی کلمہ گو ذبح کرتے وقت بسم الله کی جگہ باسم ظاہر ہر گز نہیں کہتا،نہ زنہار کسی مسلمان پر یہ گمان ہوسکتا ہےکہ وہ غیر خدا کی عبادت چاہے اور ظاہر واہر بھنگیوں وغیرہم کفا رکے باطل معبودان کو معاذالله معبود قرار دے،تو لاجرم اس نے الله ہی کے نام ذبح کیا اور عبادت غیر خدا کا خیال بھی اس کے دل میں نہ آیا،بلکہ اصلا اس پر بھی کوئی دلیل نہیں کہ اس کی جان دینے سے فقیر مسلم اس معبود باطل کی مجرد تعظیم(جومثل تعظیم اہل دنیا بوجہ غناء انحائے تعظیم الہٰی سے نہیں ہوسکتی)منظور رکھی ہو،کہ مسئلہ ذبح عند قدوم الامیرکو اس سے تعلق ہوسکے،انصاف یہ ہے کہ اس طرح کے فقیروں کو صرف اپنے کھانے سے غرض ہوتی ہے،کافر بلاکر لے گیا انھوں نے تکبیرکہہ کر بطور مسلمانان ذبح کیا اور اپنے کھانے کے قابل کردیا،اس کے سوا انھیں دوسری نیت فاسد ہ کا مرتکب جاننا مسلمان پر نری بدگمانی ہے جو بنص قطعی قرآن حرام۔
|
قال اﷲ تعالٰی" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ۫ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ "[1]۔ |
الله تعالٰی نے فرمایا:اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔ |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) والسرفیہ مااشرنا الیہ ان الکتابی لایخرج بہذا عن کونہ کتابیا فتحل اذا جرد التسمیۃ ﷲ تعالٰی کما ان المشرك لایخرج عن الاشراك بتجرید التسمیۃ فلا تحل وان سمی اﷲ تعالٰی اما المسلم لیخرج بہذا القصد عن الاسلام فلا تحل ھکذا ینبغی ان یفہم ھذا المقام ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز۔ |
اس میں نکتہ یہ ہے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ عیسائی و کتابی خالص الله تعالٰی کا نام لینے اور مراد مسیح علیہ السلام لینے پر کتابی ہونے سے باہر نہ ہوگا،لہذا اس کا ذبیحہ حلال جس طرح مشرك خالص الله تعالٰی اور اسی کا تقرب مراد لینے سے شرك سے باہر نہ ہوگا لہذا اس کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا جبکہ مسلمان غیر الله کا تقرب وعبادت مراد لینے پر اسلام سے باہر ہوجاتاہے لہذا وہ ذبیحہ حلال نہ ہوگا،اس مقام کو یوں سمجھنامناسب ہے ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع