30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے غیر خدا کی عبادت کا قصد کیا اور اہل اسلام اراقۃ دم لوجہ الله سے جس طرح کا تقرب الله جل جلالہ کی طرف
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) لاتحل ذبیحتہ مطلقًا وان سمی اﷲ تعالٰی وقصد بہ التقرب الیہ وحدہ وعزوجل والکتابی تحل ذبیحتہ اذا سمی اﷲ تعالٰی وحدہ وان قصد بہ التقرب الی غیرہ تعالٰی،قال النیشاپوری فی تفسیرہ قال مالك و الشافعی وابوحنیفۃ و اصحابہ،اذا ذ بحوا علی اسم المسیح فقد اہلوا بہ لغیر اﷲ فوجب ان یحرم،واذا ذبحوا علی اسم اﷲ فظاہر اللفظ یقتضی الحل ولا عبرۃ بغیر اللفظ [1] اھ وقال فی الہندیۃ عن البدائع لو سمع منہ یعنی من الکتابی ذکر اسم اﷲ تعالٰی لکنہ عنی باﷲ تعالٰی وعزوجل المسیح علیہ السلام قالوا توکل الااذانص فقال بسم اﷲ الذی ھو ثالث ثلثۃ فلا یحل الخ [2]۔اقول: |
الله وحدہ تعالٰی کے نام اور اسی کاتقرب حاصل کرنے کے لئے ذبح کرے تب بھی اس کا ذبیحہ حلال نہ ہوگا،اور اہل کتاب (یہودی یا عیسائی)اگر الله تعالٰی کے نام پر ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ حلال ہوگا اگر چہ وہ غیر الله کے تقرب کے لئے ذبح کرے۔علامہ نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ امام مالک،شافعی،ابوحنیفہ او ران کے اصحاب نے فرمایا کہ اگر عیسائی مسیح کے نام پر ذبح کریں تو اس نے یقینا غیر الله کے نام پر ذبح کیا،لہذا ضروری ہے کہ وہ ذبیحہ حرام ہو۔اور اگر وہ الله تعالٰی کے نام پر ذبح کریں تو ظاہر الفاظ کے اعتبارپر وہ ذبیحہ حلال ہوگا اورغیر لفظ کا اعتبار نہ ہوگا اھ،ہندیہ میں فرمایا کہ بدائع میں ہے کہ اگر کتابی عیسائی سے ذبح کے وقت الله تعالٰی کا نام سنا لیکن اس نے الله تعالٰی سے مراد مسیح علیہ السلام کو لیا توفقہاء نے فرمایا کہ اس کا ذبیحہ کھایا جائے گا جب تك کہ صریح الفاظ میں یوں نہ کہے الله کے نام سے جو تین میں سے تیسرا ہے۔اگر صریح طور پر ایسے کہے تب حرام ہوگا الخ اقول: (میں کہتاہوں) (باقی اگلےصفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع