30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولو طلب اٰلۃ الذبح لایدرك ذکاتہ فجرح لایحل،الا اذا قطع العروق قال القاضی عبدالجبار یحل ان جرحہ کذا فی القنیۃ [1]۔ |
کرسکتاہے،اور اگر وہ ذبح کاآلہ تلاش کرے تو جانور مردار ہوجائے ایسی صور ت میں مقام ذبح کو زخمی کردینے سے حلال نہ ہوگا جب تك اس کی رگوں کو کاٹ نہ دے،قاضی عبدالجبار نے کہا ہے اگر زخمی کردیا جس سے موت واقع ہوئی تو حلال ہے یوں قنیہ میں ہے۔(ت) |
تنویر الابصارودرمختار وردالمحتار کتاب الصید میں ہے:
|
ان ادرکہ الرامی والمرسل حیا ذکاہ وجوبا،فلوترکہا حرم،وکذا یحرم لو عجز عن التذکیۃ(بان لم یجد اٰلۃ او لایبقی من الوقت مایمکن تحصیل الالۃ والا ستعداد للذبح)لان العجز عن التذکیۃ لایحل الحرام[2] اھ ملتقطا۔واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
کتا چھوڑنے والے یا تیر مارنے والے نے شکار کو زندہ پایا تو اس کو ذبح کرنا واجب ہے اگر نہ کیا تو حرام ہوگا اور یونہی اس صور ت میں ذبح کرنے سے عاجز رہا تو بھی حرام ہوگا،عجز کی صورت یہ کہ ذبح کاآۤلہ نہ پائے یا اتنا وقت نہ پایا کہ آلہ حاصل کرسکے یا ذبح کی استعداد نہ پائے،کیونکہ عجز حرام کوحلال نہیں کرتا اھ ملتقطا۔والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت) |
مسئلہ ۸۴ و ۸۵:از ڈیرہ اسمٰعیل خاں ملك وزیر ستان چھاؤنی ٹانك پوسٹ کرگٹی ورکس کمپنی مرسلہ مولوی اکبر حسین صاحب اسٹون ۲۶۰۴ ۱۳رمضان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں:لوہے کی پتی کی چھری بنی ہو،نہ اس میں دستہ ہو نہ دستہ کی جگہ پر کوئی سوراخ ہو،اس سے ذبح کرنا درست ہے یانہیں؟ یہ جگہ فیلڈ ہے اور گرمی بہت سخت اور دھوپ میں کام کرنا پڑتاہے۔یہاں روزہ رکھنا چاہئے یانہیں؟
الجواب:
اگر اس میں کسی طرف دھار رکھی گئی ہو جیسے چھُری میں،تو دھار سے ذبح جائز ہے،اور دھار نہ ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع