30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اگر رگیں کٹنے سے پہلے جانور میں مذبوح کی حیات سے زیادہ حیات باقی تھی جب تو بالاتفاق حلال ہوگیا،اور اس کا کھانا بے تامل روا،اور اس پر اعتراض محض باطل وبے جا،اور اگر آلہ کند تھا اور بہت سختی کرنی پڑی کہ اکثر رگیں کٹنے سے پہلے ہی دانتوں کی رگڑوں،صدموں سے اس کی روح فنا ہوگئی یا رہی تو صرف اتنی ہی رہی جو بعد ذبح ہوتی ہے کہ فقط موت کا تڑپنا باقی ہوتا ہے۔ اس کے بعد دو چار پہر جی نہیں سکتا،تو اس صورت میں یہاں کہ اور کوئی آلہ ملتا ہی نہ تھا اختلاف علماء ہے بعض فرماتے ہیں حرام ہوگیا،کہ ذکوٰۃ اختیاری یعنی رگوں کے کاٹنے سے اس کی موت نہ ہوئی،بلکہ سبب موت قطع عروق سے پہلے ہی متحقق ہو لیا،اور بعض نے کہا حلال ہے جب آلہ میسر نہ تھا یہ بھی ایك زکوٰۃ اضطراری کی شکل میں آگیا،اور رجحان موجود ہ جانب حرمت ہی پایا جاتاہے۔اور اسی میں احتیاط،
|
نقل المصنف ان من التعذر مالو ادرك صیدہ حیا او اشرف ثورہ علی الہلاك وضاق الوقت عن الذبح اولم یجد اٰلۃ الذبح فجرحہ حل فی روایۃ [1]۔ |
مصنف نے نقل کیا متعذر صورتوں میں یہ کہ شکار کو زندہ حالت میں پایا یا وہ موت کے قریب تھا،اور ذبح کرنے والے کو وقت کی تنگی تھی یا ذبح کا آلہ نہ پایا تو ایسی صورت میں اگر زخمی کردیا تو حلال ہوگا یہ ایك روایت ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
الاولی ان یقول فی قولہ لان نقلہ المصنف عن القنیۃ معزوا الی بعض المشائخ وقال البعض الاٰخر لایحل اکلہ الا اذا قطع العروق۔افادہ ط [2]۔ |
روایت کی بجائے ایك قول کہنا مناسب ہے کیونکہ اس کو مصنف نے قنیہ سے بحوالہ بعض مشائخ نقل کیا ہے اور بعض دیگر نے کہا اس کا کھانا حلال نہیں جب تك اس کی رگیں نہ کاٹ دے،اس کا افادہ علامہ طحطاوی نے کیا۔(ت) |
اورہندیہ کی عبارت یہ ہے:
|
اشرف ثورہ علی الہلاك ولیس معہ الا مایجرح مذبحہ |
جانور موت کے قریب ہے اور ذبح کرنیوالے کے پاس صرف ایسی چیز ہے جو ذبح والے مقام کو زخمی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع