30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مافوق العقدۃ مما یلیہا بین المحلین وکلام التحفۃ و الکافی وغیرہما یدل علی ان الحلق یستعمل فی العنق کما فی ابن عابدین فتحریر العلامۃ عندی ما افادہ فی رد المحتار اذ قال والتحریر للمقام،ان یقال ان کان بالذبح فوق العقدۃ حصل قطع ثلثۃ من العروق،فالحق ماقالہ شراح الہدایۃ تبعا للرستغفنی و الا فالحق خلافہ اذا لم یوجد شرط الحل باتفاق اہل المذہب،ویظہر ذٰلك بالمشاہدۃ او سوأل اہل الخبرۃ فاغتنم ہذا المقال ودع عنك الجدال [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ان دونوں کے درمیان سے متصل ہے اور کافی اور تحفہ وغیرہما کاکلام دلالت کرتاہے کہ حلق کا استعمال گردن پر ہوتاہے جیسا کہ ابن عابدین کے کلام میں ہے تو علامہ ابن عابدین کا فیصلہ کن کلام میرے نزدیك معتبر ہے جس کا انھوں نے ردالمحتار میں افادہ کیا جب انھوں نے فرمایا:تحریر مقام یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ فوق العقدہ ذبح میں اگرتین رگوں کا کٹنا پایا گیا تو حق وہ ہے جو شراح ہدایہ نے رستغفنی کی اتباع میں کہا ورنہ حق اس کے خلاف میں ہے کیونکہ تین رگیں نہ کٹنے کی صورت میں اہل مذہب کی متفقہ شرط حلال ہونے کی نہ پائی گئی اور یہ معیار مشاہدہ یا ماہرین سے پوچھنے پر معلوم کیا جاسکتاہے،اس مقالہ کو غنیمت سمجھو اور تنازع ختم کرو،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۸۳: از شہر بریلی محلہ بہاری پور مسئولہ جناب مولوی نواب سلطان احمد خاں صاحب زید مجدہم بتاریخ ۴ صفر المظفر قدسی ۱۳۳۰ھ
بندوق سے ایك ہرن شکار ہوا،چونکہ اس وقت چاقو یا چھری موجودنہ تھے،تو ایك سوار کو گاؤں کی طرف چھری لینے کو دوڑا یا اتنے میں ہرن قریب مرنے کے ہوگیا،توایك زمیندار سے جو اتفاقیہ وہاں موجود تھا درانتی جس سے چارہ کاٹا جاتا ہے،دندانہ دار ہوتی ہے لی گئی،اور ایك مرد عادل مسلمان نے ذبح کیا،اس شکار کو کھا یاگیا،اس پر چند لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے آلہ سے ذبح کیا ہوا حرام ہے۔تو یہ اعتراض ان کا بجاہے یا بیجاہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
درانتی بھی آلات ذبح سے ہے،ردالمحتارکتاب الصیدمیں ہے:
|
لو نصب شبکۃ وکان بہا اٰلۃ جارحۃ |
اگر ایسا جال لگایا جس کے ساتھ کوئی آلہ جارحہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع